شوبز انڈسٹری کی معروف اداکار و میزبان جگن کاظم کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام مہربانو ہے لیکن وہ جگن کے نام سے مشہور ہو گئیں۔

جگن کاظم نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے نجی زندگی اور دیگر موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ ان کا اصل نام مہر بانو کاظم ہے لیکن شوبز کی دنیا میں وہ جگن کے نام سے جانی جاتی ہیں کیونکہ ان کے پہلے پراجیکٹ میں ان کا نام جگن چلا گیا اور آج تک یہی نام چلا آ رہا ہے۔

میزبان جگن کاظم کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والے اور دوست پیار سے جگن کہتے تھے لیکن اسی نام سے مشہور ہو گئیں اور یہ انہیں آج بھی چبھتا ہے کیونکہ وہ کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ اس نام سے مشہور ہو جائیں۔

جگن نے مزید کہا کہ آج کل لوگ اس قدر بےتکلفی سے بات کرتے ہیں کہ کبھی کبھی یہ فرق نہیں سمجھ آتا کہ وہ کسی سے بڑی ہیں یا چھوٹی؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ پرانے خیالات والی خاتون ہیں اس لیے انہیں ’جگن آنٹی‘ یا ’جگن آپی‘ کہا جائے وہ اس بات کا برا نہیں مانیں گی کہ لوگ انہیں عمر میں بڑا سمجھیں۔

واضح رہے کہ جگن کاظم ایک اداکارہ، ماڈل اور اینکر ہیں۔ وہ دو دہائیوں سے شوبز انڈسٹری میں کام کر رہی ہیں۔ وہ تقریباً 10 سال سے ایک مارننگ شو کی میزبانی بھی کر رہی ہیں اور حکومت کی جانب سے ایک ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی ڈرامے جگن کاظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے جگن کاظم جگن کاظم

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ناتمام (آخری قسط)
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے