عوامی تعاون کے بغیر پائیدار تبدیلی ممکن نہیں: شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن—فائل فوٹو
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر پائیدار تبدیلی ممکن نہیں ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کی سینئر صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے بتایا ہے کہ ہیوی اور لائٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی، اس مد میں 416 گا ڑیاں ضبط کی گئیں، جبکہ 25 گاڑیوں رجسٹریشن منسوخی کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے بتا یا ہے کہ اس مہم کے دوران اب تک 2 ہزار 625 موٹرسائیکلیں تحویل میں لی گئیں ہیں۔
وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سی سی آئی اجلاس میں آج کینالوں کے معاملے کا فیصلہ ہو جائے گا۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ 278 چنگچیوں کو تحویل میں لے کر 278 ڈرائیورز کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ بغیر رجسٹریشن چلنے والی 13 چنگچیز کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔
شرجیل میمن بتایا ہے کہ اس ضمن میں 27 ایل پی جی، سی این جی کٹس ضبط، 4 ہزار 119چالان جاری کیے گئے، جبکہ 380 گاڑیوں کی رجسٹریشن کو مشروط طور پر معطل کر کے تجدید کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
انہوں مزید کہا ہے کہ حکومت سندھ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر کاربند ہے، یہ مہم ایک جامع اصلاحاتی عمل ہے۔
شرجیل میمن کہا ہے کہ تمام شہری، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز قوانین کا احترام یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن کہا ہے کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔