خطے میں کشیدگی، سائبرحملوں کے خطرات سے متعلق ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
نیشنل سرٹ نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر سائبر حملوں کے خطرات سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہیکرز کشیدگی کا فائدہ اٹھاکر پاکستان میں سرکاری اداروں اور حساس انفرااسٹرکچر پر سائبر حملے کرسکتے ہیں، حکومتی اداروں کو فوری طور پر سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
خطے میں کشیدگی کے پیش نظر سائبر حملوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ) نے ایڈوائزری جاری کردی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہیکرز جنوبی اور وسطی ایشیا میں کشیدگی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں سرکاری ادارے اور حساس انفرااسٹرکچر بشمول دفاعی، مالی اور میڈیا کے شعبے سائبر حملوں کا شکار ہو سکتے ہیں، سائبر حملوں کے لیے اسپیئر فشنگ، مالوئیر اور ڈیپ فیک جیسے طریقے استعمال ہونے کا خدشہ ہے، حملہ آور اداروں کی رازداری اور معلومات چوری کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ایڈوائزری کے مطابق ممکنہ سائبر حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں اسٹرٹیجک انفرااسٹرکچر کی سروسز میں خلل پڑ سکتا ہے، سائبر حملوں کی صورت میں ڈیٹا چوری اور مالی نقصان کا امکان بڑھ گیا ہے، پاکستان میں فنانشل اداروں اور بینکنگ سسٹمز میں سائبر کرائم کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
نیشنل سرٹ نے حکومتی اداروں کو فوری طور پر سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سائبر حملوں سے سیاسی عدم استحکام اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے،ادارے فوری طور پر اپنے سسٹمز کا سیکیورٹی آڈٹ کروائیں۔نیشنل سرٹ نے عوام کو سائبر ہائجین کی اہمیت پر آگاہی دینے کی ہدایت بھی کردی ہے، پاکستان میں سائبر حملوں سے بچنے کے لیے اینٹی وائرس اور سیکیورٹی سسٹمز کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سائبر حملوں کے پاکستان میں میں کشیدگی کے خطرات
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔