پہلگام واقعہ؛ لیفٹیننٹ کرنل دھونی کو ٹوئٹ نہ کرنا مہنگا پڑگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
بھارت کو ورلڈکپ جتوانے والے کپتان مہندرا سنگھ دھونی پہلگام واقعہ پر پاکستان مخالف ردعمل نہ دیکر مشکل میں پھنس گئے۔
پہلگام واقعہ پر سابق بھارتی کرکٹرز، موجودہ کرکٹرز ویرات کوہلی، شبمن گل سمیت پاکستان مخالف جذبات رکھنے والے قومی ٹیم کے سابق کرکٹر دانش کنیریا نے افسوس کا اظہار کیا تاہم مہندرا سنگھ دھونی کی جانب سے کوئی بیان نہیں دیا گیا جس پر انہیں بھارتیوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ناقدین نے دھونی پر لفظی تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا آرمی مین ہے جو ایک ٹویٹ نہیں کر سکتا پہلگام حملہ پر؟۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ کنیریا کے بعد دھون بھی آفریدی کیخلاف میدان میں اُتر گئے
خیال رہے کہ مہندرا سنگھ دھونی کی قیادت میں 2007 ٹی20 ورلڈکپ جیتنے کے بعد انہیں اعزازی طور پر اسوقت کے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے نومبر 2011 میں لیفٹیننٹ کرنل کا اعزازی رینک دیا تھا۔
مزید پڑھیں: دھونی کی فرنچائز کی مسلسل شکستوں نے بالی ووڈ اداکارہ کو رُلا دیا
واضح رہے مہندرا سنگھ دھونی واحد کپتان ہیں جن کی قیادت میں بھارت نے 2007 میں ٹی20 ورلڈکپ، 2011 میں ورلڈکپ، 2013 میں چیمپئینز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
A post shared by Instant Bollywood (@instantbollywood)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مہندرا سنگھ دھونی پہلگام واقعہ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔