زیارت، سی ٹی ڈی کی مبینہ کارروائی، چوتیر سے سات افراد کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مذکورہ لاشیں زیارت کے علاقے چوتیر سے ملی ہیں، جنہیں فوری ڈسٹرکٹ اسپتال زیارت منتقل کردیا گیا، جہاں انکی شناخت کی جائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع زیارت میں سات نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مذکورہ لاشیں زیارت کے علاقے چوتیر سے ملی ہیں، جنہیں فوری ڈسٹرکٹ اسپتال زیارت منتقل کردیا گیا، جہاں ان کی شناخت کی جائے گی۔ دوسری جانب لاشیں ملنے کے بعد مقامی افراد نے احتجاج شروع کرتے ہوئے زیارت چوتیر شاہراہ کو بند کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ چوتیر ایک پرامن علاقہ ہے، جہاں کا امن خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق شاہراہ پر ٹریفک کی بحالی کے لیے انتظامیہ مظاہرین سے بات چیت کر رہی ہے۔
دوسری جانب متعدد مقامی ڈیجیٹل خبر رساں ادارے سی ٹی ڈی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ زیارت میں انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کا ہلاک کیا ہے۔ پولیس یا حکومت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم متعدد خبر رساں ادارے سی ٹی ڈی ذرائع کا حوالہ دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
بلوچستان حکومت نے صوبے میں ایرانی پیٹرول(Irani Petrol) کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے، جبکہ مقررہ نرخ سے زائد وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں ایرانی پیٹرول اب 280 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جائے گا، اور اس سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ شہری اگر کسی بھی مقام پر ایرانی پیٹرول کی زائد قیمت وصولی دیکھیں تو وہ اس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر کے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی تاکہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
دوسری جانب بلوچستان میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں نئی قیمت کے تعین کو بعض حلقوں کی جانب سے ایک ریگولیٹری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں پیٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں میں بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مارکیٹ پر مزید کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔