بے نظیر انکم کے تحت ایک ہی بچے کیلیے دو ماوں کو ادائیگی کے 2ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک ہی بچے کے لیے دو ماؤں کو ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
جنید اکبر خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ایک بچے کے لیے دو ماؤں کو ادائیگیوں کا آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔
آڈٹ بریف میں بتایا گیا کہ ایک ہی بچے کے لیے دو ماؤں کو ادائیگی کے 2 ہزار 312 کیسز رپورٹ ہوئے، اس مد میں بینظیر انکم کے تحت 1 کروڑ 40 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے بتایا کہ یہ رقوم بچوں کو تعلیمی وظائف کے تحت کیش میں دی گئیں۔
آڈٹ بریف کے مطابق ایک ہی بچے کے بے فارم کے ساتھ مختلف ماؤں کو منسلک کیا گیا، آڈٹ کی نظر میں فنڈز کی ادائیگی کو مشکوک اور بے ضابطہ تھی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دوبارہ ڈی اے سی میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو ادائیگی ایک ہی بچے ماؤں کو بچے کے کے تحت
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔