لکھنؤ یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے ملک میں مذہبی بنیادوں پر اتحاد کے فقدان کو اجاگر کیا تھا اور کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ معروف گلوکارہ نہا سنگھ راٹھور کے بعد اترپردیش پولیس نے سماجی کارکن اور پروفیسر مادری کاکوٹی عرف ڈاکٹر میڈوسا کے خلاف ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سمیت کئی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ ڈاکٹر میڈوسا لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے توسط سے سماجی اور سیاسی مسائل کو اٹھاتی رہتی ہیں۔ وہ اکثر حکومت پر تنقید کرنے کے لئے طنزیہ اسلوب کا سہارا لیتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا، جو پاکستان میں بھی وائرل ہوا۔ اس میں انہوں نے ملک میں مذہبی بنیادوں پر اتحاد کے فقدان کو اجاگر کیا تھا اور کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس قدر بٹا ہوا ہے کہ فسادات بھڑکنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا۔

ڈاکٹر میڈوسا کی ایک اور پوسٹ سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے لکھا تھا "دھرم پوچھ کر گولی مارنا دہشتگردی ہے اور دھرم  پوچھ کر تشدد کرنا، دھرم پوچھ کر نوکری سے نکالنا، دھرم  پوچھ کر گھر کرایہ پر نہ دینا، دھرم پوچھ کر گھروں پر بلڈوز چلانا وغیرہ بھی دہشتگردی ہے، اصلی دہشتگردی کو پہچانو"۔ اب ڈاکٹر میڈوسا کے خلاف لکھنؤ کے حسن گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ لکھنؤ یونیورسٹی کا طالبعلم ہے۔ جتن شکلا نامی اس طالبعلم کا تعلق آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم "اے بی وی پی" سے بتایا جاتا ہے۔ جتن شکلا کا خیال ہے کہ ڈاکٹر میڈوسا کی حالیہ پوسٹ ملک کے امن اور ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں انہوں نے کیا تھا پوچھ کر

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج