سندھ طاس معاہدے پر بھارتی رویہ ناقابل قبول ہے، وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت دستیاب پانی 240 ملین شہریوں کی لائف لائن ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا پوری طاقت سے دفاع کرے گا۔
وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے مابین ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں بالخصوص جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری جنرل کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی بے بہا قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کرتا ہے۔
پاکستان کیخلاف بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کو پہلگام حملے سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے مذکورہ حملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔
وزیراعظم نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو غیر قانونی قرار دینے کی بھارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کی وسیع پیمانے پرریاستی سرپرستی میں دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں:
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتونیو گوتیرس جنوبی ایشیا خودمختاری سندھ طاس معاہدے سیکریٹری جنرل شہباز شریف علاقائی سالمیت لائف لائن وزیر اعظم وزیراعظم آفس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی ایشیا خودمختاری سندھ طاس معاہدے سیکریٹری جنرل شہباز شریف علاقائی سالمیت لائف لائن اعظم شہباز شریف سیکریٹری جنرل
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔