دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل 2025ء)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے آج دبئی میں ایگزیکٹو کونسل دبئی کے سیکریٹری جنرل عبداللہ محمد البسطي سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے گورننس و سرکاری خدمات ڈاکٹر حزاع خلفان النعیمی، آفس آف سیکریٹری جنرل کے ڈائریکٹر برائے شراکت داری و بین الاقوامی تعلقات خالد جمعہ بلاحول، متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، ٹریڈ کونسلر اور پریس کونسلر بھی موجود تھے۔

البسطي نے پاکستانی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے دبئی گورنمنٹ ایکسیلینس پروگرام کا تعارف کروایا، جو 2003 میں سرکاری شعبے کی کارکردگی، گورننس اور اختراع کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کو اپناتے ہوئے ایک سمارٹ، مؤثر اور عوام دوست گورننس نظام تشکیل دے رہا ہے، جس کے اہم اعشاریے عوامی اطمینان اور ملازمین کی خوشی ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے دبئی حکومت کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کی طویل المدتی منصوبہ بندی کی حکمت عملی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے ہدف پر کام کر رہا ہے، جس کی بنیاد ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، گورننس اصلاحات اور پائیدار پالیسی فریم ورک پر ہے۔ انہوں نے سول سروس اور پبلک سیکٹر اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی، اور کہا کہ پاکستان کا مقصد گورننس ڈھانچے کو نئی عالمی ٹیکنالوجی اور تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے۔

جواب میں البسطي نے قیادت کے واضح وژن اور عوامی شراکت داری کو قومی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا، اور کہا کہ شفافیت اور احتساب اچھی گورننس کے بنیادی ستون ہونے چاہییں۔ دونوں فریقین نے انسانی وسائل کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات کو سراہا اور علم کے تبادلے و اختراع پر مبنی شراکت داری کے لیے مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سیکریٹری جنرل

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے