شاہد آفریدی نے دبئی میں کھانے کا ہوٹل کھول لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے دبئی میں اپنی ریسٹورنٹ چین ’لالہ دربار‘ کا افتتاح کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’آؤ تمہیں چائے پلاتا ہوں شیکھر‘، شاہد آفریدی نے شیکھر دھون کو مزید کیا کہا؟
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اپنی جارح مزاج بیٹنگ سے مشہور پاکستان کے سابق کپتان و آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے دبئی میں ریسٹورٹ چین کا افتتاح کیا جس کا نام ’لالہ دربار‘ رکھا گیا ہے۔
یہ ریسٹورنٹ دبئی میں پاکستانی کھانوں کا ایک منفرد ذائقہ پیش کرے گا۔ افتتاحی تقریب میں شاہد آفریدی نے شرکت اور مداحوں سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیے: شاہد آفریدی پاک فوج کی وردی پہنے واہگہ بارڈر پہنچ گئے، ویڈیو وائرل
اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ یہ منصوبہ میرے دل کے بہت قریب ہے، میں چاہتا ہوں کہ دنیا بھر میں پاکستانی کھانوں کی ثقافت کو فروغ ملے۔
انہوں نے کاہ کہ ’لالہ دربار‘ صرف ایک ریسٹورنٹ نہیں بلکہ گھر جیسا ماحول فراہم کرے گا۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کی فوڈ چین کا دائرہ کار مزید ملکوں تک بڑھایا جائے گا جن میں برطانیہ امریکا اور کینیڈا بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پہلگام حملہ: شاہد آفریدی نے بھارتی فوج کو نالائق اور نکما قرار دیدیا
شاہد آفریدی کے کھانے کے ہوٹل میں لذیذ بریانی سے لے کر سیخ کباب تک ڈشز کی وسیع ورائٹی مہیا ہوگی۔
ریسٹورٹ کی تھیم کرکٹ پر مبنی ہے اور وہاں سابق کرکٹر کی یادگار اننگز کی تصاویر بھی آویزاں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دبئی شاہد آفریدی شاہد آفریدی ریسٹورنٹ شاہد آفریدی کا کھانے کا ہوٹل لالہ دربار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی شاہد ا فریدی ریسٹورنٹ لالہ دربار شاہد ا فریدی نے لالہ دربار
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔