وفاقی وزیر صحت کا بھارت سے بغیر علاج بھیجے گئے 2 بچوں کا علاج سرکاری خرچ پر کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے بھارت سے بغیر علاج واپس بھیجے گئے 2 بچوں کا علاج سرکاری خرچ پر پاکستان میں ہی کروانے کا اعلان کردیا۔
مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جس کے باعث علاج کیلئے جانے والے بہت سے لوگوں کو بغیر علاج کروائے ہی واپس بھیج دیا گیا۔
پاکستان واپس آنے والوں میں شاہد علی کے 2 بچے بھی شامل ہے جو دل کے مرض میں مبتلا ہیں۔
شاہد علی نے حکومت سے بچوں کا علاج کروانے کی اپیل کی تھی جو وفاقی حکومت نے سن لی۔
وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہےکہ بچوں کا علاج سرکاری خرچ پر ملک میں ہی ہوگا جب کہ وزیر صحت نے ڈی جی ہیلتھ کو بچوں کی فیملی کی مدد کی ہدایت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے علاج کے لیے وزیراعظم ہاؤس نے بھی رابطہ کیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بچوں کا علاج
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔