لاہور میں نوسرباز دَم کرنے کے بہانے بھاری مالیت کا سونا اور نقدی لے اُڑا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
لاہور میں نوسربازی کی انوکھی واردات، معمر شخص دم کرنے کے بہانے سونا اور نقدی لے اُڑا۔
وحدت کالونی لاہور میں ہوئی اس واردات کی ایف آئی آر کے مطابق ایک 60 سے 65 سالہ شخص نے پہلے خود کو پیاسا ظاہر کرکے پانی طلب کیا اور پھر باتوں ہی باتوں میں گھر کی خواتین کو قائل کر لیا کہ ان کے گھر پر کسی نے بندش کروا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہورمیں گن پوائنٹ پر ڈکیتیوں میں ملوث میاں بیوی گرفتار
گھر میں موجود بزرگ خاتون سمیت دیگر خواتین بھی اس شخص کی باتوں میں آگئیں اور اپنی مال پر دم کروانے کے لیے گھر میں موجود سونے زیورات اور لاکھوں روپے نقدی اس کے سامنے ڈھیر کردی۔اور وہ وقفے وقفے سے سب کی اشیا پر کچھ پڑھا کر پھکنے لگا۔
اس دوران بزرگ ڈاکو کے ساتھ ورادات میں موجود ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار یہ سب کچھ باہر کھڑا دیکھا رہا تھا، جب بزرگ ڈاکو نے اپنا عمل مکمل کر لیا تو دوبارہ عورتوں سے کہا کہ اب یہ سب سامان ایک چادر میں ڈال دو تاکے ایک ساتھ جادو ختم ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: ڈکیتی کی واردتوں میں ملوث بین الصوبائی گروہ کے 2 ارکان گرفتار
خواتین بزرگ ڈاکو کی باتیں مانتی گئیں جیسے وہ کہتا رہا خواتین کرتی رہیں۔جیسے ہی خواتین نے اپنا سارا سامان ایک چادر میں رکھا دیا، تو بزرگ نے ڈاکو نے کہا کہ اب آپ سب اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ آخری عمل مکمل ہو سکے۔ خواتین نے جیسے آنکھیں بند کیں وہ سارا سامان لیکر رفو چکر ہوگیا۔
اس نوسربازی کے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کروادی گئی ہے، ایف آئی آر کے مطابق بزرگ ڈاکو 13 تولہ سونا جس کی قمیت چالیس لاکھ روپے ہے اور سات لاکھ روپے لیکر بھاگ گیا ہے۔
پولیس نے سی ٹی وی فوٹیج لیکر بزرگ ڈاکوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی آر پولیس لاہور نوسر باز وحدت کالونی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا ر پولیس لاہور وحدت کالونی بزرگ ڈاکو
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔