جمعۃ المبارک پر مساجد اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
سٹی42: آئی جی پنجاب نے جمعۃ المبارک کے موقع پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
آئی جی پنجاب نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات اور دیگر اہم مقامات کی مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے معاشرتی اصلاح اور امن و انصاف کی فراہمی میں ممبر و محراب کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
انہوں نے ڈی پی اوز اور سینئر پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ نمازِ جمعہ کے موقع پر علاقائی مساجد کا دورہ کریں اور نماز کے بعد شہریوں کے مسائل سن کر موقع پر حل کریں۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ اسلام کی روح اور تعلیمات کے مطابق مساجد کو کمیونٹی سے رابطے کا مرکز بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کی پولیس تک رسائی آسان بنائی جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کی اصلاح اور ترقی میں مساجد کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سینئر افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مساجد کے ذریعے شہریوں کے دروازے پر جا کر ان کے مسائل سنیں اور ان کا ازالہ کریں۔
ایف سی انڈرپاس کے قریب تیز رفتار رکشہ اُلٹنے سے5افراد زخمی
آئی جی پنجاب نے پولیس افسران کو یہ بھی تاکید کی کہ شہریوں کو پولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات سے آگاہ کیا جائے تاکہ عوام میں اعتماد اور تعاون کا ماحول فروغ پائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔