معاشی اصلاحات سے افراطِ زر اور کرنٹ اکانٹ خسارے پر قابو پالیا گیا، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2025ء)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی اصلاحات سے افراط زر اور کرنٹ اکانٹ خسارے پر قابو پالیا ہے۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(او آئی سی سی آئی)کے عہدیداروں اور ممبران کے ساتھ زوم میٹنگ میں وزیر خزانہ نے حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر میٹنگ کے شرکا نے پائیدار ترقی پر زور، معاشی اصلاحات اور معاشی ترقی میں نجی شعبے کے رہنما کردار پر اتفاق کیا۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے اور پائیدار، مستحکم و جامع ترقی کے لیے جاری عزم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معیشت کو مثر، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے ٹیکس، توانائی، عوامی مالیات اور سرکاری اداروں سمیت اہم شعبوں میں جاری اصلاحات کا تذکرہ بھی کیا۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایسی معیشت تشکیل دینا ہے جو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت نہ صرف معاشی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ نجی شعبے کو ترقی کا اہم محرک بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ انہوں نے OICCI کی سفارشات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے بجٹ کی تیاری کے عمل میں ان پر غور کی یقین دہانی کرائی۔میٹنگ میں او آئی سی سی آئی نے بین الاقوامی شراکت داروں سے حکومت کی مثر بات چیت اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور ٹیکس بنیادوں کو وسعت دینے، ٹیکنالوجی و بین الادارتی رابطے کے ذریعے نظام کو مثر بنانے سمیت نجی شعبے کے ساتھ مستقل مشاورت کے فروغ کی سفارشات بھی پیش کیں۔چیمبر کے عہدیداروں نے گزشتہ سال کے دوران بزنس کانفیڈنس سروے میں کاروباری ماحول سے متعلق مثبت رجحان سامنے آنے کا ذکر کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ معاشی بہتری سے آئندہ مہینوں میں سرمایہ کاری کے مزید بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔دریں اثناء وزیر خزانہ نے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندوں سے بھی زوم پر ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ترقی کے لیے حکومتی عزم کااعادہ کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے عالمی شراکت داروں کی حمایت حاصل ہے۔ حکومت کی کوششوں سے افراط زر اور کرنٹ اکانٹ خسارے پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جب کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو جون تک 10.6 تک پہنچ جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے معاشی اصلاحات انہوں نے کے لیے نے کہا
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔