نائب وزیراعظم کی پاناما کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاناما کے وزیر خارجہ ہاویئر ایڈورڈو مارٹنز آچا واسکیز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اماراتی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، پاک بھارت کشیدگی پر گفتگو
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاناما کے وزیر خارجہ ہاویئر ایڈورڈو مارٹنز اچا واسکیز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، وزیر خارجہ نے پاناما کے ہم منصب کو موجودہ علاقائی صورتحال سے اگاہ کیا۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کے اشتعال انگیز پراپیگنڈے اور پاکستان کے خلاف اس کے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات سے اگاہ کیا، وزیر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہونا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کے بارے میں بھی پاناما کے وزیرخارجہ کو آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورہ کابل کے بعد اہم پیشرفت، فیڈرل کنٹرول روم قائم
پاناما کے وزیر خارجہ نے دونوں فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن ہونے کے ناطے دونوں فریقوں نے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسحاق ڈار بھارت پاکستان پانامہ نائب وزیراعظم ہاویئر ایڈورڈو مارٹنز آچا واسکیز وزیر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بھارت پاکستان پانامہ پاناما کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک اسحاق ڈار
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔