Daily Ausaf:
2026-07-24@08:23:23 GMT

بھارتی رافیل جہاز واپس کیوں گئے؟ اصل حقیقت کیا نکلی؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

لاہور(نیوز ڈیسک) سینیئر صحافی منصور علی خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے 4 رافیل طیارے اس لئے واپس گئے کہ ان کے ساتھ اڑنے والے ’ سٹاک پلیئن ‘ کو پاکستانی c 130 plane نے جیم کردیا تھا جس سے اُس کا اپنے کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

معروف سینیئر صحافی منصور علی خان نے اپنے ویلاگ میں اہم خبر دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی بھارتی رافیل طیاروں نے ٹیک آف کیا پاکستانی ریڈار نے انہیں دیکھ لیا اُس کے بعد ہمارے ہاں سے بھی جہاز اڑائے گئے۔

صحافی منصور علی خان نے بھارتی طیاروں کے واپس جانے کی تفصیلی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’جب فائٹر طیارے اڑتے ہیں تو ان کو سپورٹ دینے کے لئے ’ c 130 plane‘ ان کے ساتھ ہوتے ہیں جب یہ سارا معاملہ ہوا تو پاکستان کی جانب سے سے ایک سی ون تھڑٹی جہاز اڑا۔

انڈین جہازوں کے ساتھ ایک اور’ سٹاک پلیئن‘ جو ’ٹروپس‘ کو ایک سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے استعمال ہوتا ہے وہ بھی تھوڑے فاصلے پر اڑ رہا تھا، ہمارے ’ c 130 plane‘ نے اُس جہاز کو 2 سے 3 منٹ تک جیم رکھا اور اپس کا اپنے کنٹرول ٹاور اور چاروں رافیل طیاروں سے رابطہ منقطع ہوگیا، پاکستانی ’ c 130 plane‘ نے جہاز کے اندر ریڈار سسٹم کو جیم کردیا تھا، جب یہ صورتحال دوسرے طیاروں نے دیکھی تو وہ بھانپ گئے اور فوراً واپس پلٹ گئے۔

صحافی منصور علی خان کا کہنا تھا کہ بھارت میڈیا نے یہ خبر دبا کر رکھی کیوں کہ اُن کے لئے یہ شرمندگی کا مقام ہے، جیمنگ کے دوران بھارتی اور’ سٹاک پلیئن‘ میں ٹروپس نہیں تھی جس کے باعث کوئی نقصان نہیں ہوا، اس انہونی نے بھارتی فضائیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اُن کے ساتھ ہوا کیا ہے، بالکل ایسا ہی ابھینندن کے ساتھ ہوا تھا۔
مزیدپڑھیں:بھارتی جارحیت کے سوال پر خاموشی اختیار کرنے پر جنت مرزا کو تنقید کا سامنا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: صحافی منصور علی خان کے ساتھ

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا