بالوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں بھی مشہور ہیں جو ماہرین کی نظر میں درست نہیں ہیں اور ایسی باتوں میں آکر انسان کچھ ایسی احتیاط کرنے لگ جاتا ہے جس سے بالوں کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

بالوں کو روزانہ دھونا نقصان دہ؟

کہا جاتا ہے کہ روزانہ بال دھونے سے ان کی چمک ختم ہو جاتی ہے اور وہ گرنے بھی لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ تاثر درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا میں سب سے لمبی زلفوں والی حسینہ نے لمبے اور مضبوط بالوں کا راز بتادیا

ماہرین کہتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر روزانہ بال دھوئے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ایک نرم اور سلفیٹ سے پاک شیمپو کا انتخاب کیا جائے۔

بالوں کو اچھی طرح پانی سے دھویا جانا چاہیے تاکہ ان پر جمع میل کچیل ٹھیک سے ختم ہوسکے۔

بالوں کو ٹھیک سے نہ دھونے سے سر میں خشکی اور سیبورریک ڈرمیٹیٹائٹس کے پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

بالوں کے سِروں کو کاٹنے سے نشوونما بڑھتی ہے؟

یہ بات بھی بہت عام ہے کہ اگر بالوں کے سِروں کو کاٹا جائے تو اس سے ان کی نشوونما بڑھتی ہے لیکن ماہرین کی نظر میں اس میں بھی کوئی سچائی نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 شاخوں والے ِسروں کو کاٹنا بالوں کی صحت مند اور چمکدار ظاہری شکل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے لیکن یہ بالوں کی نشوونما کو تحریک دینے پر کبھی اثر انداز نہیں ہوتا۔

سفید بال اکھاڑنے سے ان میں اضافہ ہوجاتا ہے؟

یہ بات بھی بہت عام ہے کہ ایک سفید بال کو نوچنے سے اس کی جگہ کئی سفید بال اُگ آتے ہیں لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی سائنسی تحقیق یا مطالعہ موجود نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بالوں کا فولیسائل صرف ایک بال پیدا کرتا ہے۔ میلانین کی پیداوار کا رک جانا سفید بالوں کی بنیادی وجہ ہے۔

بالوں کی دیکھ بھال کی مصنوعات کو تبدیل کرنا ضروری ہے؟

یہ مقولہ جلد اور بالوں دونوں کے حوالے سے دہرایا جاتا ہے کیونکہ یہ خیال عام ہے کہ جب بال استعمال شدہ مصنوعات کے عادی ہو جاتے ہیں تو یہ اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔

لیکن اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بالوں کی ضروریات بدل جاتی ہیں اور یہ ہارمونل تبدیلیوں سے بھی متاثر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بالوں کی دیکھ بھال کی مصنوعات کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے: دنیا میں کس ملک کی خواتین سب سے زیادہ خوبصورت ہیں؟

اس سلسلے میں ماہرین بالوں کی دیکھ بھال کی مصنوعات کے غلط استعمال یا ان کے زیادہ استعمال کے خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر کھوپڑی میں کسی بھی قسم کی حساسیت سے بچنے کے لیے اسکرب کا استعمال مہینے میں ایک یا 2 بار سے زیادہ نہیں کیا جاتا۔

بالوں کو گرنے سے بچانے کے لیے شیمپو ہی کافی ہے؟

کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ وہ بالوں کے گرنے سے بچاؤ کے شیمپو استعمال تو کر رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

مزید پڑھیں: کیا بور کا پانی بال جھڑنے کا سبب بنتا ہے؟

اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ شیمپو کا بنیادی کام بالوں کو صاف کرنا ہوتا ہے اور یہ سر پر 3 یا 4 منٹ سے زیادہ نہیں رہتا۔

ماہرین کے مطابق بالوں کو گرنے سے بچانے کے لیے صرف شیمپو کا استعمال مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالوں سے متعلق باتیں بالوں کی دیکھ بھال بالوں کی دیکھ بھال اور غلط فہمیاں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالوں سے متعلق باتیں بالوں کو سفید بال جاتا ہے یہ بات کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف