ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ کراچی ہائی وے کو بلاک کردیا، اور منگوچر بازار میں متعدد سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ مسلح افراد کے گروپ نے قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کیں، اور متعدد گاڑیوں کو روک لیا، انہوں نے مسافر بسوں اور نجی کاروں سمیت متعدد گاڑیوں کی تلاشی لی، جس سے راستے پر ہر قسم کی ٹریفک رک گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح گروہ منگوچر بازار میں داخل ہوا، نادرا، جوڈیشل کمپلیکس اور نیشنل بینک آف پاکستان کے دفاتر سمیت متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے انہیں آگ لگا دی، آگ کی وجہ سے عمارتوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے پہنچنے سے پہلے مسلح افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، اور رات گئے ہائی وے پر ٹریفک بحال کردی گئی۔

ایک اور واقعے میں موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے کوٹ لانگو کے قریب لیویز چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک لیویز اہلکار جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت حق نواز لانگو کے نام سے ہوئی۔

لیویز حکام نے ضلع قلات کے علاقے رحیم آباد کے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ایک پل کے نیچے طاقتور دھماکے کی اطلاع بھی دی، جس سے پل کے ایک حصے کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دریں اثنا مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں مسافر کوچ پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔

مستونگ کے اسسٹنٹ کمشنر اکرم ہریفال نے بتایا کہ زخمیوں کو غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مسلح افراد

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی