راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03 مئی 2025)سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وقت آنے پر دنیا دیکھے گی کہ پاکستانی قوم کتنی عظیم ہے، پاکستانی قوم متحد ہے اور اپنے وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنا جانتی ہے،امید ہے حالات جنگ کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک حالات بہت بگڑ چکے ہوتے،راولپنڈی کی عدالت میں پیشی کے موقع میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بھارت ایک جانب جنگ کی باتیں کر رہا ہے اور دوسری طرف مذاکرات کی بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت نے اگر پاکستانی قوم کو للکارا تو ہر بچہ اور ہر فرد ملک کی حفاظت کیلئے میدان میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے جان دینے کا جذبہ ہر پاکستانی کے دل میں موجود ہے اور ہر فرد اپنے ملک اور دین اسلام کیلئے قربانی دینے کو تیار ہے۔

(جاری ہے)

پاکستانی قوم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے۔ بھارت کسی بھول میں نہ رہے ۔ کسی بھی مہم جوئی یاجارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔

وطن کے دفاع کیلئے تمام پاکستان اس وقت ایک بیج پر ہیں ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کی آبی دہشتگردی تھی۔پاکستان کی سلامتی کیلئے پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھی۔ سندھ طاس معاہدہ معطلی بھارت کا گھمنڈ تھا۔ پاکستان کی سلامتی ہمیں جان سے زیادہ عزیز تھی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا تھاکہ پانی روکنا جنگ کے مترادف تھا۔

بھارت یکطرفہ معاہدہ معطل نہیں کرسکتا۔ پہلگام واقعے کا پاکستان پر بے بنیاد الزام تھا۔بھارت یکطرفہ معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم پاکستان کے چپے چپے زمین کی حفاظت کرنا قوم خوب جانتے تھی۔ وقت آنے پر بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے۔ پاکستان کی سلامتی کیلئے پوری قوم ایک تھی۔ پاکستانی قوم پاکستان کیلئے زندہ ہے اورپاکستان کیلئے جان دیں گے۔

ہمارے اندرونی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن جب بات پاکستان کی آتی ہے تو پھر ہم پوری قوم یک جان ہو جاتے تھے۔ بھارت یاد رکھے کہ ہم ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ پاکستانی قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔بھارت نے اگر کوئی جارحیت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔بھارت کسی بھول میں نہ رہے ہم ان کی چال بازیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عوامی مسلم لیگ پاکستانی قوم پاکستان کی ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا