امت مسلمہ کے مابین باہمی دفاعی معاہدے کی ضرورت ہے، فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کا فوری انعقاد قابل تحسین ہے اور دوحہ کانفرنس اسلامی دنیا کے وحدت کیلئے نقطہ آغاز ثابت ہوگا، مسلم دنیا کا اپنے دفاع کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق ناگزیر ہوچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کے مابین باہمی دفاعی معاہدے کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے قطر کے سفارتخانے کا دورہ کیا اور قطرکے سفیر علی بن مبارک الخاطر سے ملاقات کی۔ انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کا فوری انعقاد قابل تحسین ہے اور دوحہ کانفرنس اسلامی دنیا کے وحدت کیلئے نقطہ آغاز ثابت ہوگا، مسلم دنیا کا اپنے دفاع کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق ناگزیر ہوچکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کے مابین باہمی دفاعی معاہدے کی ضرورت ہے۔ قطر کے سفیر علی بن مبارک نے مولانا فضل الرحمان کے اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسرائیلی حملے کے موقع پر پاکستانی قوم کی جانب سے اظہار یکجہتی قابل تحسین ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم لاہور میں انتقال کرگئے۔جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ امیرالعظیم صاحب اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم طویل عرصے سے علیل اور کینسر کے مرض سے نبرد آزما تھے۔امیرالعظیم کی نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔امیرالعظیم جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
لاہور میں 1958 میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے انہیں 2019 اور 2024 میں موجودہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے انہیں مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر کیا۔
مزید :