Express News:
2026-06-03@03:00:00 GMT

سندھ میں پانی کی قلت اور نقل مکانی کا مسئلہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

صاف پانی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف ہماری جسمانی صحت کے لیے اہم ہے بلکہ معاشرتی ترقی کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انسانی جسم کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور صاف پانی کے بغیر صحت مند زندگی ممکن نہیں۔ پینے، کھانے پکانے، زراعت اور صفائی ستھرائی کے تمام کاموں کے لیے صاف پانی ناگزیر ہے۔ آلودہ پانی سے کئی بیماریاں اور دیگر انفیکشنز پیدا ہوتے ہیں جو انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

 بالخصوص سندھ کے ساحلی علاقے ، حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں، حکومتی غفلت اور قدرتی وسائل کے بے تحاشا ضیاع کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان مسائل میں سب سے اہم اور سنگین مسئلہ پینے کے صاف پانی کی قلت ہے، جو نہ صرف انسانی زندگیوں بلکہ مقامی حیاتیاتی نظام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

پانی کی کمی کے باعث ان علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی شروع ہو چکی ہے، جو مستقبل قریب میں ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

 سندھ کے ساحلی علاقوں جیسے کہ کیٹی بندر، جھرک، گھوڑا باری، بادین، اور ٹھٹھہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ یہ علاقے کبھی دریائے سندھ کے پانی سے بھرپور ہوا کرتے تھے، لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔

کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی چھوڑنے کی کمی کی وجہ سے سمندر کا کھارا پانی دریا میں داخل ہوگیا ہے، جس نے زیرِ زمین میٹھے پانی کو آلودہ کردیا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ اور زمین کا کٹاؤ ان علاقوں کی زرخیز زمینوں کو برباد کررہا ہے، جس سے زراعت اور پینے کے پانی کے ذرایع ناپید ہوگئے ہیں۔

 حکومتی سطح پر مناسب ڈیم، آبی ذخائر اور صاف پانی کی اسکیمیں نافذ نہیں کی گئیں، جس کا خمیازہ مقامی آبادی بھگت رہی ہے۔ پانی کی قلت اور زمین کی زرخیزی ختم ہونے کے باعث ہزاروں خاندان سندھ کے ساحلی علاقوں سے ہجرت کر رہے ہیں۔

یہ خاندان ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور دیگر علاقوں سے اندرون سندھ ہجرت کر کے میرپورخاص، عمرکوٹ، مٹیاری، نوابشاہ اور حیدرآباد جیسے علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے کیونکہ وہ اپنی زمین، مویشی اور روزگار کھو چکے ہیں۔

تھرپارکر کا علاقہ بھی پانی کی کمی سے شدید متاثر ہے۔ یہاں نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اطلاعات آئی ہیں کہ تھر کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے پچاس سے زائد مور مرگئے۔ مور، جو تھر کا خوبصورت اور مقدس پرندہ مانا جاتا ہے، اس سانحے سے تھر کے ماحولیاتی نظام کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔

ایسے مشکل حالات میں فلاحی تنظیموں کو آگے آنا ہوگا۔ جے ڈی سی اور دیگر این جی اوز جیسے کہ ایدھی فاؤنڈیشن، سیلانی ویلفیئر، ہینڈز اور انڈس ہاسپٹل کو چاہیے کہ وہ ان بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے خصوصی امدادی مہمات شروع کریں۔

ان خاندانوں کو رہائش، خوراک، طبی امداد اور صاف پانی کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔جے ڈی سی اور دیگر ادارے اگر منظم انداز میں کام کریں تو وہ عارضی کیمپ قائم کر کے ان لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی طبی نگہداشت اور تعلیم کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔سندھ کے ساحلی اور صحرائی علاقوں میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے فلاحی تنظیموں کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں۔

ہینڈ پمپس اور نلکوں کی تنصیب: گاؤں گاؤں میں ہینڈ پمپس اور نلکے لگائے جائیں تاکہ زیر زمین میٹھا پانی استعمال کیا جا سکے۔

ریورس آسموسز (RO) پلانٹس کی تنصیب:کھارے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے RO پلانٹس لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کئی تنظیمیں پہلے سے یہ کام کر رہی ہیں، لیکن یہ دائرہ کار ابھی بہت محدود ہے۔

بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے: بارانی علاقوں میں پانی کے ذخائر اور چھوٹے ڈیم بنا کر بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

پانی کے ٹینکرز کی سہولت: جب تک مستقل بندوبست نہ ہو، تب تک پانی کے ٹینکرز کے ذریعے فراہمی یقینی بنائی جائے۔

حکومت کو چاہیے کہ صاف پانی کی اہمیت کے بارے میں ایک منظم آگاہی مہم چلائے تاکہ عوام کو صاف پانی کے استعمال، اس کی حفاظت، اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جا سکیں۔ گاؤں، قصبوں اور شہروں میں پینے کے پانی کے ذرایع اکثر آلودہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر عوام کو یہ شعور دیا جائے کہ صاف پانی کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اسے محفوظ کیسے رکھا جا سکتا ہے، تو صحت کے مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔آگاہی مہم میں میڈیا، اسکولوں، مساجد اور کمیونٹی سینٹرز کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پمفلٹس، اشتہارات، ڈاکیومنٹریز، اور ورکشاپس کے ذریعے ہر طبقہ فکر تک یہ پیغام پہنچائے کہ صاف پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کا تحفظ ہر شہری کی ذمے داری ہے۔

ساتھ ہی، حکومت کو پانی کے فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور موجودہ واٹر سپلائی سسٹم کی بہتری پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے آگاہی کا پیغام مؤثر ہو سکے۔سندھ کے بارے لوگوں کو آگے آکر پانی کے حوالے سے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

سندھ کے بااثر افراد، جن میں سیاستدان، جاگیردار، تاجر اور تعلیم یافتہ طبقہ شامل ہے، ان پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بحران کا ادراک کریں اور عملی اقدامات اٹھائیں۔ انھیں صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ صاف پانی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری، آگاہی مہمات، اور حکومتی سطح پر دباؤ ڈالنے جیسے اقدامات کرنے چاہئیں۔

جب بااثر افراد اپنی حیثیت اور وسائل کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کریں گے تو نہ صرف لاکھوں زندگیاں بہتر ہوں گی بلکہ ایک مثبت سماجی تبدیلی کی بنیاد بھی پڑے گی۔پانی کی قلت صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، صحت، معیشت اور تعلیم کے مسائل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ سندھ کے ساحلی اور صحرائی علاقوں میں پانی کی کمی نے انسانوں، جانوروں اور فطرت کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ ایک قومی ایمرجنسی کی صورت اختیار کرچکی ہے، جس پر فوری توجہ درکار ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے بلکہ فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر طویل مدتی پالیسی ترتیب دے۔ بصورت دیگر، آنے والے برسوں میں پانی پر جنگیں، بڑے پیمانے پر ہجرت اور انسانی جانوں کا ضیاع ناگزیر ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاقوں میں پانی سندھ کے ساحلی صاف پانی کی کہ صاف پانی کو چاہیے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے ضرورت ہے حکومت کو اور دیگر پینے کے کے پانی پانی کو پانی کے سکتا ہے کے لیے ا گاہی کی کمی

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔

کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئیں۔

پولیس کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود میں بھینس کالونی کے قریب ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت جاوید عرف راول کے نام سے ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اور ماضی میں 15 سے زائد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور نقد رقم بھی برآمد ہوئی۔

دوسری کارروائی اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں کی گئی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

زخمی ملزم سہیل کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی اکرم کو تھانے منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں

کراچی، پولیس اور ایس آئی یو کے ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے، 1 ڈاکو ہلاک، 3 زخمی حالت میں گرفتار

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر بہادرآباد تھانے کی حدود میں کنگری ہاؤس کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ڈاکو گرفتار کیے گئے جن میں ایک زخمی ملزم جان شیر بھی شامل ہے۔

زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔

ایک اور کارروائی فیروز آباد پولیس اور شاہین فورس نے جیل چورنگی کے قریب مشترکہ طور پر کی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورک سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا