چنیوٹ، پپلاں، میانوالی (نوائے وقت رپورٹ) دریائے چناب اور سندھ میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کے باعث متعدد دیہات متاثر ہو گئے ہیں، پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق چنیوٹ میں دریائے چناب کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی کیفیت بدستور قائم ہے، دریا میں اس وقت ایک لاکھ 4 ہزار 139 کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جس کے باعث قریبی علاقوں میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ سیلابی صورتحال کے باعث متعدد دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیرِ آب آ گئی ہیں جس سے کسانوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں، ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل کی نگرانی میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ٹیمیں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلع بھر میں پانچ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرہ خاندانوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کریں, مقامی ریسکیو ٹیمیں اور دیگر ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ادھر دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی میں 7 ہزار 258 کیوسک کا اضافہ ہوا ہے۔ انچارج کنٹرول روم کے مطابق اس وقت بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 78 ہزار 391 کیوسک ہے جبکہ 1 لاکھ 35 ہزار 926 کیوسک پانی کا اخراج کیا جا رہا ہے، پانی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے اور صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال تاحال برقرار ہے جس کے باعث نشیبی اور کچے علاقوں میں تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ فلڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق کالاباغ (جناح بیراج) پر پانی کی آمد 3 لاکھ 4 ہزار 924 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 96 ہزار 924 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ چشمہ بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 15 ہزار 416 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 93 ہزار 416 کیوسک ہے۔ سیلابی صورتحال کے باعث کمرمشانی، کچہ دراز والا، سمند والا اور دیگر دیہات تاحال زیرِ آب ہیں جہاں مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، پپلاں کے دیہی علاقوں بھکڑا، کچہ گجرات، موضع ڈھنگانہ اور میلے والی میں دریا کے کنارے شدید کٹاؤ جاری ہے جس کے نتیجے میں متعدد کچے مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں تاہم مقامی افراد نے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فوری فراہمی اور کٹاؤ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سیلابی صورتحال پر پانی کی ا مد علاقوں میں نچلے درجے کے مطابق ہے جس کے کے باعث

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب