پاک بھارت کشیدہ صورتحال، پی ٹی آئی کا حکومتی بریفنگ میں نہ جانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومتی بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتِ حال پر حکومتی بریفنگ کے معاملے میں پی ٹی آئی کا واضح فیصلہ سامنے آیا ہے۔
اپوزیشن جماعت نے حکومتی بریفنگ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی حکومت بریفنگ میں شرکت نہیں کرے گی۔
سیاسی کمیٹی پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی نے قوم کے نام پیغامات میں دہشت گردی کی مذمت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بانی نے قومی یک جہتی اتحاد اور داخلی استحکام کی ضرورت پر زور دیا، بیرونی جارحیت کی صورت میں ملک کے دفاع کے لیے صفِ اوّل میں ہوں گے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے بھارتی پروپیگنڈے پر اصولی مؤقف کو قوم کے سامنے رکھا، حکومت کو آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانی چاہیے تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حکومتی بریفنگ بریفنگ میں پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔