ترکیہ اور عمان کے سفیروں کی سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن)ترکیہ اور عمان کے سفیروں نے سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے نیول ہیڈکوارٹرز میں ملاقاتیں کیں ۔
ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کے ذریعے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاک بحریہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔دونوں سفیروں نے خطے میں بحری سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 8 خوارج ہلاک
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور دوست ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے دائرہ کار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ترکیہ اور عمان کے سفیروں کے حالیہ دورے سے دوست ممالک بالخصوص مسلح افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔