Express News:
2026-07-24@13:46:14 GMT

سنہری پیالیاں۔۔۔۔

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

’’بہت فلمی ہو یار۔۔۔‘‘ کسی بات پر یہ جملہ سننے کو ملا تو سوچ میں پڑ گئے کہ ہاں فلمی تو ہم ہیں اور بھلا کیوں کر نہ ہوتے نوجوانی کا دور 1990ء کی اُس دَہائی میں گزرا، جہاں فلمیں ہی گھریلو لڑکیوں کی تفریح کا سامان، تربیتی کیمپ اور ٹائم مشین ہوا کرتی    تھیں۔

سو، ان ہی فلموں کے ذریعے ہم نے گویا دنیا کے رنگ دیکھے، زندگی سیکھی اور خود کو آنے والے یا اپنے پسندیدہ وقت میں دیکھا۔ اچھی طرح یاد ہے ان دنوں ’گڈ گرل‘ کا تصور بہت زیادہ پیش کیا جاتا تھا۔ اچھی لڑکی سے مراد ہوتی ہے، وہ لڑکی جو ہر فن مولا ہو، مگر اس کی اپنی کوئی رائے نہ ہو، دوسرا سب کی خدمت اور سب کو خوش رکھنے کے لیے ہر طرح کی قربانی دے اور اُف نہ کرے۔

اب ہمارے پڑھنے والے سوچیں گے اس میں غلط کیا ہے۔ ہم بھی یہی کہیں گے کچھ بھی غلط نہیں ہے۔  تو ہوا کچھ یوں، نوجوانی کی عمر تھی۔ ’پرنس چارمنگ‘ کسی شادی میں دیکھنے کے بعد رشتہ ڈال چکے تھے۔ جہیز کی تیاریاں زور شور سے شروع ہو چکی تھیں۔

ہمارے پاپا کوئی بہت امیر آدمی تو نہ تھے کہ بیٹی کے منہ سے نکلی ہر چیز اس کے ساتھ کر دیں، تو ہر چیز ضرورت اور جیب کو مدنظر رکھ کر لی جا رہی تھی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ  ضرورت کی چیزوں کی فہرست سب کی الگ بنی۔ امی کے حساب میں ہمیں جن چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔

وہ فہرست الگ تھی، پھوپھی کے حساب سے وہ فہرست الگ تھی، پاپا کے حساب سے الگ، دادی کے حساب سے مختلف اور خالاؤں کے حساب سے جدا۔ ویسے ایک فہرست ہم نے بھی بنائی تھی، مگر سب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’بھئی پیسے بچ جائیں گے تو دِلا دیں گے!‘‘ ویسے ہمیں اس کی کوئی زیادہ پروا تھی بھی نہیں۔ ہم تو بس اس بات پر خوش تھے کہ ہماری شادی ہو رہی ہے اور اب ہم وہ تمام کام کر سکتے ہیں، جن کے لیے اب تک ہمارے اوپر’شادی کے بعد‘ کہہ کر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ (ایسے کاموں کی فہرست بھی کوئی چھوٹی تھی بھلا!)

لیکن کیا کیجیے، تھے تو ہم ادنیٰ سے انسان ہی۔ تو پھوپی کے ساتھ بازار گھومتے گھومتے ایک میٹھے کی پیالیوں کا سیٹ بڑا پسند آگیا۔ بڑا ہی نازک سا آئس کریم سیٹ تھا۔ جس پر سنہری رنگ سے بہت باریک سے نقش کسی بیل کی صورت میں بنے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی ہم بے چین ہو گئے، وہ واحد چیز تھی جس کے لیے ہم نے ضد کی تھی۔ اچھی طرح یاد ہے کہ دکان دار نے اس کی قیمت دو ہزار روپے بتائی تھی اور اس سے ایک پیسہ کم کرنے پر راضی نہیں تھا۔ پھوپھی نے سمجھا بُجھا کر بہلا لیا کہ ’’بیٹا بہت مہنگا ہے۔‘‘

مگر شاید وہ سیٹ ہمارے نصیب میں تھا کہ دکان دار نے گاہک ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھا تو 1500 روپے میں وہ سیٹ دینے پر راضی ہو گیا۔ اس سیٹ کے ملتے ہی اس سیٹ کے حوالے سے ہمارے ’منصوبے‘ شروع ہو گئے۔

’’یہ پیالیاں ہم سسرال کے کسی اچھے سے موقع پہ نکالیں گے۔ اور یوں کر کے اس میں آئس کریم پیش کریں گے اور سب لوگ دیکھ کے کہیں گے کہ واہ لڑکی میں سلیقہ اور ماڈرن انداز دونوں چیزیں ہیں۔

مگر جناب والا۔۔۔۔ جب ہم سسرال پہنچے، تو پتا چلا، وہاں تو کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں! اللہ کا دیا سبھی کچھ ہے اور یہ بھی کہ، ’’ہم تو بہوؤں کی کسی چیز کو استعمال ہی نہیں کرتے، جو وہ لائی ہیں وہ اپنے لیے لے کر آئی ہیں۔ ہم نے نہ تو کچھ مانگا تھا اور نہ ہی کچھ دیکھا کہ ساتھ کیا آیا؟ سو جب یہ اپنے الگ الگ گھر بنائیں، تب استعمال کرتے پھریں جو ان کا سامان ہے۔‘‘

لیجے جناب، یہ سنتے ہی کتنی باتیں تھیں، جو ہم فقط سوچ کر ہی رہ گئے۔ کچھ وقت اور گزرا، تو معلوم ہوا، وہ پیالیاں تو صرف ایک چیز تھی اور بھی بہت کچھ تھا جو ’خوامخواہ‘ تھا اور وہاں اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جیسے ہم بہت اچھی مہندی لگاتے تھے، مگر وہاں کس کام کی؟ ہم کپڑوں پر اور کانچ پر بڑی اچھی پینٹنگ کرتے تھے، مگر یہ ہنر بھی وہاں بے کار تھا۔ گانا گانے کا شوق تھا۔ لکھتے بھی تھے، سونے سے پہلے کہانیاں پڑھنے کی عادت بھی تھی۔ زور سے قہقہہ مار کے ہنستے تھے اور بہت ہنستے تھے۔

بھلا ان چیزوں کی سسرال میں کیا ضرورت؟ وہاں تو ضرورت تھی ایک بہت ’پختہ ذہن عورت‘ کی جو ساس کے لیے مکمل خالص بہو ہو اور شوہر کے لیے خالص بیوی۔ یوں فقط 22 سال کی عمر ہی میں ہمیں احساس ہو گیا کہ جو سب سے اہم چیز تھی، وہ تو ہم لانا بھول گئے اور وہ چیز تھی 60 سالہ عورت کی پختگی! شوہر اور ساس کی رسّا کشی میں ایسا لگتا تھا کہ ہم یا تو دو پارٹوں میں پس رہے ہیں یا یہ ہمارے درمیان میں سے آری چلا کر کاٹا جا رہا ہے۔۔۔ جو سب کو خوش رکھنے کا سوچا تھا، وہ پلان تو سارا چوپٹ ہو گیا۔ نتیجہ نہ اچھی بہو پن پائے نہ اچھی بیوی۔۔۔!

خیر۔۔۔! وقت کی سب سے اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ گزر جاتا ہے۔ آج بہت دنوں کے بعد کچن کی الماری صاف کرتے ہوئے وہ پیالیاں سامنے آئیں، تو کانچ کی وہ پیالیاں بغیر استعمال ہوئے ہی اب پیلی سی پڑ رہی تھیں۔ کتنی یادیں انھیں دیکھ کر چڑیوں کی طرح سے ہماری پلکوں پر آ بیٹھیں۔ جنھیں جلدی سے پلکیں جھپک کر اڑانا پڑا۔ پھر ان پیالیوں کو اچھی طرح سے رگڑ کر دھویا، تو وہ بالکل نئے جیسی ہو گئیں۔ دل ایک دم جیسے اس چمک سے بھر گیا اور ایک بار پھر مسکراتے ہوئے وہ پیالیاں الماری میں بہت سنبھال کر رکھ دیں۔

’’اب جب بیٹی کو دیکھنے کے لیے لوگ آئیں گے ناں تب انھیں استعمال کروں گی۔ دیکھنے والے کہیں گے واہ کتنی سگھڑ اور سلیقہ مند خاتون ہیں۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے حساب سے چیز تھی کے لیے

پڑھیں:

ٹانک ،چیک پوسٹ پر حملہ ، 12 فوجیوں سمیت 15 شہید،12 خوارجی ہلاک

ضلع ٹانک میں قائم مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 12 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور انہیں ہلاک کر دیا۔

بیان کے مطابق حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور چیک پوسٹ کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار شامل ہیں، جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وطن کے دفاع، قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے۔

متعلقہ مضامین