معروف سیاستدان اور دانشور سینیٹر تاج حیدر کے انتقال کے بعد سینیٹ کی خالی ہونے والی جنرل نشست پر آج سندھ اسمبلی میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، پولنگ صبح 9 سے شام 4 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔

اس نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے اپنے دیرینہ کارکن اور تنظیمی امور کے ماہر وقار مہدی کو نامزد کیا ہے، جو موجودہ حکومت میں وزیر اعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار پارٹی کے وفادار اور متحرک رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

دوسری جانب نگہت مرزا ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے میدان میں ہیں، جو خواتین کے حقوق، بلدیاتی نظام اور شہری سندھ کے مسائل پر خاصی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان پیپلز پارٹی کے انتقال کرجانے والے سینیئر رہنما سینیٹر تاج حیدر کون تھے؟

سندھ الیکشن کمشنر اعجاز انور چوہان کے مطابق سندھ اسمبلی کو پولنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے، جہاں 161 ارکان اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ ایوان میں پیپلز پارٹی کو 116 ارکان کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہے جبکہ ایم کیو ایم کے پاس 36 اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان کی تعداد 5 ہے۔

سینیٹ کی نشست پر کامیابی کے لیے کم از کم 81 ووٹ درکار ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو فتح کے لیے عددی لحاظ سے کوئی بڑا چیلنج درپیش نہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے، مگر ایم کیو ایم کی جانب سے نگہت مرزا کی نامزدگی شہری ووٹ بینک میں پارٹی کی موجودگی کو برقرار رکھنے کی ایک حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ضمنی انتخاب سندھ میں آئندہ بلدیاتی اور عام انتخابات کے تناظر میں دونوں جماعتوں کی سیاسی حیثیت کا اشارہ بھی دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایم کیو ایم پاکستان پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی سینیٹ سینیٹر تاج حیدر نگہت مرزا وقار مہدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی سینیٹ سینیٹر تاج حیدر نگہت مرزا سینیٹر تاج حیدر سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے لیے ایم کی

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو