بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے فوراً بعد گودی میڈیا اور حکومتی بیانات نے اس واقعے کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ملک میں مذہب کی بنیاد پر نفرت آمیز بیانیے کو ہوا ملی اور بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔

سیاسی و سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے ’مذہب پوچھ کر مارا گیا‘ جیسے بیانات نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حال ہی میں ایک مسلمان خاندان، جو شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے اتراکھنڈ کے شہر دیرادون جا رہا تھا، راستے میں ہندوتوا انتہا پسندوں کے حملے کا نشانہ بنا۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے خاندان کے افراد سے ان کا مذہب پوچھنے کے بعد ان پر لوہے کی سلاخوں اور چاقوؤں سے وحشیانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 5 سے 6 افراد شدید زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد بھارت کا بلوچستان میں بڑی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب

ان واقعات کے بعد بھارت میں مسلمانوں کی جان و مال کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی مسلم دشمنی صرف کشمیر یا سرحدی تنازعات تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ زہریلا نظریہ اب پورے بھارت میں سماجی سطح پر نفرت، قتل اور فسادات کو ہوا دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، پہلگام حملے کے بعد مذہبی بنیادوں پر تشدد کے واقعات اور اس پر حکومتی خاموشی ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں ریاستی مشینری کا جھکاؤ ایک مخصوص مذہبی بیانیے کی طرف صاف نظر آ رہا ہے۔

دوسری طرف، عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جس میڈیا نے پہلگام واقعے کے بعد ایک ہندو اہلکار کی ہلاکت پر ’مذہب پوچھ کر مارا گیا‘ کا شور مچایا، وہ مسلمان شہریوں پر ہونے والے حملوں پر کیوں خاموش ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت پر تشدد پہلگام حملہ مسلم کش مودی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پہلگام حملہ بھارت میں کے بعد

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں