پہلگام واقعہ بھارت کا جھوٹا پروپیگنڈہ ،بھارت ثبوت پیش کرے۔ پاکستانی سفیر کی امریکی تھنک ٹینکس کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، ہم عزت و وقار کے ساتھ امن پر یقین رکھتے ہیں۔ رضوان سعید شیخ نے امریکی تھنک ٹینکس کے نمائندگان کو پہلگام فالس فلیگ واقعے اور پاک،بھارت کشیدہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں پاکستانی سفیر نے بھارت کی جانب سے پیدا کیے گئے علاقائی تناؤ پرتشویش کا اظہار کیا۔ بھارت نے پہلگام واقعے کا کوئی بھی قابلِ اعتبار ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جنگی جنون نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ سفارتی ماحول کو بھی متاثر کر رہا ہے ہم اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ رضوان سعید شیخ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اور پاکستان نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو میں سفیر پاکستان نے بھارت کے طرزِعمل کو لاقانونیت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تواسے 24 کروڑ افراد پر مشتمل زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش اعلانِ جنگ تصور کی جائے گی۔ پاکستانی سفیر کی بریفنگ میں خطے میں قیام امن، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی کردار پر بھی زور دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستانی سفیر
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔