خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پوری طاقت سے جواب دینگے : آرمی چیف : ایرانی وزیرخارجہ کی ملاقات تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ایسے دہشت گرد گروہ جو بلوچ شناخت کے نام پر بدامنی پھیلاتے ہیں، دراصل بلوچ قوم کی عزت و وقار پر دھبہ ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سپہ سالار نے ان خیالات کا اظہار جی ایچ کیو میں 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف نے گزشتہ روز جنرل ہیڈکوارٹر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے 15ویں سیشن کے شرکاء سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ورکشاپ 2016 سے جاری ہے جس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی، نوجوانوں، ماہرین تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ اس ورکشاپ میں مختلف سیمینارز، گروپ مباحثے اور ملک کے مختلف علاقوں کے دورے شامل ہوتے ہیں۔ ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کے مستقبل کے قائدین کو قومی اور صوبائی سطح کے اہم امور کی بہتر تفہیم دینا اور مشترکہ قومی ردعمل کی تیاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے بلوچستان کے سماجی و اقتصادی حالات میں بہتری کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ موجودہ اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی وسعت ان تمام گمراہ کن پراپیگنڈوں کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔ سپہ سالار کا کہنا تھا کہ کئی منصوبے اب نتائج دے رہے ہیں جن سے بلوچستان کے عوام براہ راست مستفید ہو رہے ہیں۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف نے بلوچستان کے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے میں سول سوسائٹی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ سول سوسائٹی کی شراکت سے ترقی اور خوشحالی کا عمل مزید مضبوط ہوگا۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بلوچستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ شرپسند عناصر جو پرتشدد کارروائیوں، خوف و ہراس اور عدم استحکام کے ذریعے بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، مسلک یا قومیت نہیں ہوتی اور اس کا مقابلہ صرف قومی اتحاد اور پختہ عزم سے ممکن ہے۔ ایسے دہشت گرد گروہ جو بلوچ شناخت کے نام پر بدامنی پھیلاتے ہیں، دراصل بلوچ قوم کی عزت و وقار پر دھبہ ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو قوم کی عزت اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کے لیے بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ کا اختتام سوال و جواب کے سیشن کے بعد ہوا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے گزشتہ روز جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں جیو اسٹریٹجک ماحول پر تعمیری بات چیت کی گئی، خاص طور پر سیکورٹی کے شعبے میں دونوں ممالک کو درپیش چیلنجوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دوطرفہ روابط کو فروغ دینے کے لئے پاک ایران بارڈر سیکیورٹی میکنزم کا بھی جائزہ لیا گیا۔آرمی چیف نے اس اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران برادرانہ پڑوسی ہیں جو کہ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کے گہرے رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں فریقوں نے خطے سے متعلق مسائل میں مثبت پیش رفت لانے میں تعاون کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے باہمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف اور تعریف کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بلوچستان کے رمی چیف نے نے کہا کہ ا رمی چیف کے مطابق پاک فوج کے لیے
پڑھیں:
صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ