عرفی جاوید کی گٹھنوں کے بل مندر میں حاضری
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
عرفی جاوید، جو اپنے جرات مندانہ فیشن اور بولڈ شخصیت کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتی ہیں، نے حالیہ دنوں میں ایک بالکل مختلف وجہ سے توجہ حاصل کی ہےاور وہ ہےان کا روحانی پہلو۔
5 مئی کو اداکارہ اور سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت نے ممبئی کے بابولناتھ مندر کا دورہ کیا اور وہاں کی سیڑھیاں گھٹنوں کے بل چڑھ کر اپنے مداحوں کو ایک بار پھرحیرت میں ڈال دیا۔
اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر اس لمحے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے، عرفی جاوید سادہ لباس میں نظر آئیں، جس کا سر دوپٹہ سے ڈھکا ہوا تھا۔
ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا، ”گھٹنوں کے بل بابل ناتھ مندر پر چڑھی۔ بس صرف دوپٹے نے میرے اس سفر کو مشکل بنادیا تھا۔“ اس پیغام نے ان کے پیروکاروں میں تجسس اور تعریف کی لہر دوڑادی، کیونکہ عرفی کے اس پہلو کو اکثر عوامی نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by RS (@rsbollywood100)
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عرفی نے کسی روحانی سفر کو اختیار کیا ہو۔ جنوری 2025 میں، اس نے راجستھان کے کمبیشور مہادیو مندر تک پہنچنے کے لیے 400 سیڑھیاں چڑھنے کا تجربہ شیئر کیا تھا، جسے سوشل میڈیا پر بہت سراہا گیا تھا۔
اگرچہ عرفی جاوید اپنے فیشن کے لیے مشہور ہیں اور اپنے منفرد انداز سے لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہیں، وہ کبھی بھی اپنے ذاتی روحانی عقائد پر بات کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔
ایک قدامت پسند مسلم گھرانے میں پرورش پانے کے باوجود، عرفی نے اپنے عقائد اور مذہبی آزادی کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔
عرفی جاوید نے کہا کہ ان کے والد ایک انتہائی قدامت پسند شخص تھے، اور جب وہ 17 سال کی تھیں تو ان کے والد نے انہیں اور ان کے بہن بھائیوں کو ان کی والدہ کے پاس چھوڑکر چلے گئے تھے۔
عرفی نے مزید کہا کہ ان کی والدہ ایک بہت مذہبی خاتون ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے مذہب کو ان پر زبردستی مسلط نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا، ”میرے بہن بھائی اسلام کی پیروی کرتے ہیں اور میں نہیں کرتی، لیکن میری والدہ نے کبھی بھی ہم پر مذہب کو فرض نہیں کیا، اور یہی صحیح طریقہ ہے۔“
اداکارہ نے اس موقع پر مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ”آپ اپنی بیوی اور بچوں پر مذہب کو مسلط نہیں کر سکتے کیونکہ عقیدت دل سے آنا چاہیے۔ اگر یہ دل سے نہ ہو، تو نہ آپ خوش ہوں گے اور نہ ہی اللہ آپ سے راضی ہوں گے۔“
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، عرفی نے ہندو فلسفے میں اپنی دلچسپی کا بھی ذکر کیا ہے اور بھگواد گیتا پڑھ کر اس عقیدے کو بہتر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
اسی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی مسلمان مرد سے شادی نہیں کریں گی، اور اپنے عقائد اور ساتھی کو آزادانہ طور پر منتخب کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کرتی ہیں۔
پیشہ ورانہ طور پر، عرفی جاوید ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ میں سرگرم رہتی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ویب سیریز ”پلے گراؤنڈ“ کی میزبانی کی اور شو ”فالو کارلو یار“ میں اپنے تجربات شیئر کیے۔
”میری درگا“، ”بے پناہ“ اور ”پنچ بیٹ 2“ جیسے شوز میں اپنے کرداروں کے لیے معروف، عرفی کی بگ باس OTT پر موجودگی نے انہیں گھریلو شہرت دلائی اور ان کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عرفی جاوید انہوں نے عرفی نے نہیں کر کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔