دوحہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاک بھارت کشیدگی پر اصولی موقف سے آگاہ کیا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق اہم ملاقات میں پاک قطر تعلقات اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاک بھارت کشیدگی اور خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے قطر کے وزیر اعظم کو پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے ٹھوس اور اصولی مو¿قف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے جامع اقدامات کے بارے میں بریف کیا۔
محسن نقوی نے گفتگو میں بتایا کہ پہلگام واقعے پر بھارت کے بے بنیاد الزامات اور اقدامات سے خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش پاکستان کے اصولی موقف کو مضبوط کرتی ہے۔ دنیا کو علم ہونا چاہئے کہ واقعے کے ماسٹر مائنڈ اور اصل ملزمان کون ہیں اور اس کا بینفشری کون ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس واقعے کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے پر وار کیا ہے جو ہمارے لئے لائف لائن ہے۔ خطے میں دیرپا امن چاہتے ہیں لیکن جارحیت پر خاموش نہیں رہیں گے۔
ملاقات میں قطر کے وزیر اعظم نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لئے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں عدم کشیدگی کی پالیسی کے حامی ہیں۔ امید ہے کہ سفارتی کوششوں سے کشیدگی کم ہو گی۔قطر کے وزیر اعظم نے وزیر اعظم شہباز شریف کے لئے نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا اور کہا کہ آپ کے وزیراعظم بہت محنت سے پاکستان کی معیشت کو درست سمت لے کر جارہے ہیں۔ اس موقع پر قطر میں پاکستان کے سفیر محمد عامر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

بھارت بغیر جنگ کئے پاکستان سے ہار چکا:بھارتی تجزیہ کار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی قطر کے وزیر پاکستان کے انہوں نے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ