پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے آو آئی سی گروپ کے بیان پر بھارت تلملا اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے آو آئی سی گروپ کے بیان پر بھارت تلملا اٹھا WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاک بھارت گشیدگی پر گزشتہ روز اقوام متحدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان پر بھارت تلملا اٹھا۔او آئی سی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا یہ بیان پاکستان کے کہنے پر دیا گیا جو پہلگام واقعے کے حقائق کو نظرانداز کرتا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے او آئی سی گروپ کے بیان پر کہا کہ بھارت او آئی سی کی جانب سے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم گروپ کا جنوبی ایشیا کی علاقائی صورتحال پر مشترکہ بیان سامنے آیا تھا جس میں جنوبی ایشیا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔او آئی سی گروپ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کے باعث پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے حالات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں۔او آئی سی گروپ نے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا تھا اور بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی اشتعال انگیز بیان بازی اور ایسے جارحانہ اقدامات بند کرے جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم گروپ نے مزید کہا کہ وہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کرتا ہے اور ساتھ ہی، کسی بھی ملک، نسل، مذہب، ثقافت یا قومیت کو دہشت گردی سے جوڑنے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ او آئی سی گروپ کے مطابق جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع جنوبی ایشیا میں امن و امان کو متاثر کرنے والا بنیادی مسئلہ ہے، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو ابھی تک ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
او آئی سی گروپ نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مسلسل تحمل کے مظاہرے اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے عزم کو سراہتے ہیں اور پاکستان کے اِس مقف کی بھی قدر کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی نہیں چاہتا بلکہ باہمی احترام اور کشمیری عوام کی جائز امنگوں پر مبنی سفارتی روابط کے لیے تیار ہے۔
او آئی سی گروپ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کو سراہا اور بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بااثر ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اور مثر اقدامات کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآرمی چیف نے بھارت سے واپس بھیجے گئے 2 بچوں کے علاج کی ذمہ داری لے لی آرمی چیف نے بھارت سے واپس بھیجے گئے 2 بچوں کے علاج کی ذمہ داری لے لی برطانیہ کا بعض ممالک کے شہریوں کے ویزے محدود کرنے پر غور، کیا پاکستانی بھی متاثر ہوں گے؟ بھارت کی زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش اعلان جنگ تصور ہوگی: پاکستان سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل نیشنل فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کا افتتاح، 50اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریگا مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ میں پھر تقسیم، نظرثانی منظور، جسٹس عقیل اور جسٹس عائشہ کا اختلافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی سی گروپ کے کے بیان پر پاک بھارت
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔