صدر آصف علی زرداری کا روسی فتح کی 80 ویں سالگرہ پر خصوصی تقریب سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے دوسری جنگ عظیم میں نازی ازم کے خلاف روسی فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر، حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی۔
صدر زرداری نے کہا کہ نازی ازم کے خلاف روسی عوام کی فتح عوامی طاقت، امن و خوشحالی کے لیے روس کے پختہ عزم کی مظہر ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یاد دلایا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران موجودہ پاکستان کے علاقوں سے بھی بہت سے افراد نے نازی ازم کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
صدر مملکت نے اپنے 2011 کے دورۂ روس کو یادگار قرار دیا اور پاک-روس دوستی کے فروغ میں روسی صدر کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی تبادلوں نے بہتر تعلقات اور افہام و تفہیم کی بنیاد رکھی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان روس کو ایک اہم عالمی طاقت اور علاقائی امن و استحکام میں کلیدی عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے خطے میں بالخصوص پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں روس کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اس صورتحال کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر مملکت نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے مابین مفاہمت اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔صدر آصف علی زرداری نے کہا، "آئیے خطے اور دنیا کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کریں۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔