بھارت کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوچکا، ہماری پوری تیاری ہے، خواجہ محمد آصف وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوچکا، ہماری پوری تیاری ہے، بھارت کے ہر اقدام کا ہم نے سب سدباب کیا ہوا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان میں کوئی جنگی ماحول نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خوف ہے۔ بھارت کے ہر اقدام کا ہم نے سدباب کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوچکا ہے، تصادم کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ آج کی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے جارحیت متوقع ہے۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے، ہماری پوری تیاری ہے۔ بھارتی رافیل سرحد کے بہت قریب آئے تھے مگر ان کا سسٹم جام ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے خدشہ ہے کہ آئندہ 2 سے 3 دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چِھڑ جائے گی، خواجہ آصف
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت نے پانی روکنے کے لیے تعمیرات کیں تو ہم انہیں تباہ کردیں گے۔ بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو وہ اسی میں ڈوب مریں گے۔
یہ بھی پڑھیے دنیا کے اہم ممالک کوشش میں ہیں کہ پاک بھارت تنازع آگے نہ بڑھے، وزیر دفاع خواجہ آصف
بھارتی حکمران خواب دیکھ رہے ہیں، ان کے خواب خواب ہی رہیں گے۔ ہماری سرزمین کے ایک ٹکڑے پر قبضے کی حکمت عملی بھارت کو بہت مہنگی پڑے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ محمد ا صف وزیر دفاع کہ بھارت بھارت کے نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔