پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی ہٹا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
ملک میں اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے مابین سیاسی کشیدگی اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈپا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود فوجی تصادم کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی ہٹا دی گئی۔ ملک میں اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے مابین سیاسی کشیدگی اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈپا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں کا موقف تھا کہ ایکس کے ذریعے اداروں کیخلاف غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور ریاست کیخلاف بھی بیانیا بنایا جا رہا تھا۔ ایک سال تک بند رہنے کے بعد پاکستان میں ایکس کی سروس کو بحال کر دیا گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں میزائل کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں پانچ انڈین جنگی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن میں سے تین طیاروں کے گرنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان میں کے بعد
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔