پرچی صرف پاکستان تک چلتی ہے انکی، علیزے شاہ کا شوبز انڈسٹری پر طنز
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ اور ماڈل علیزے شاہ نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنے بےباک انداز سے دیئے گئے بیان کی وجہ سے صارفین کی توجہ سمیٹ لی ہے۔
حال ہی میں انہوں نے انسٹاگرام سے اپنی تمام پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کے بعد ایک تنقیدی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے شوبز انڈسٹری میں سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر کام حاصل کرنے کے رجحان کا انکشاف کیا۔
علیزے نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ انہوں نے کبھی غیر اخلاقی طریقے سے کام نہیں لیا، اور ان کے مطابق صرف پاکستان میں ہی ایسے لوگوں کے لیے جگہ ہے جو “پرچی” کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
ان کا کہنا تھا کہ جو افراد بند دروازوں کے پیچھے خفیہ معاملات طے کرتے ہیں، وہ خود کو پیشہ ور کہتے ہیں، جب کہ جو اس نظام کا حصہ نہ بنے، انہیں بدتمیز قرار دیا جاتا ہے۔
اداکارہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین ان کی صاف گوئی کی تعریف کر رہے ہیں، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ علیزے شاہ محض تنازعات کے ذریعے خبروں میں رہنے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ اب انہیں کام نہیں مل رہا۔
یاد رہے کہ اب سے کچھ دن قبل علیزے شاہ نے سوشل میڈیا سے دوری کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کے نئے بیانات سامنے آنے پر صارفین انکی سوشل میڈیا پرواپسی پر بھی طنز کر رہے ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا علیزے شاہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔