پاک فوج نے 3 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، بھارتی میڈیا کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
فوٹو: اے ایف پی
بھارتی میڈیا نے بلآخر پاک فوج کی جانب سے اپنے 3 طیاروں کی تباہی کا اعتراف کرلیا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی سیکیورٹی ذرائع نے اعتراف کیا کہ پاک فوج نے 3 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چیک پوسٹوں پر پاکستانی گولہ باری سے 7 ہلاکتیں اور 35 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے رافیل طیارہ ساز کمپنی کے شیئرز گر گئے پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 جہاز گرا دیے، انفنٹری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ بھارت نے پاکستان پر 5 میزائل داغ دیے، پاکستان کی جوابی کارروائی، بھارت نے شکست تسلیم کرلیبزدلانہ حملے کے بعد شکست تسلیم کرتے ہوئے بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے چورا کمپلیکس پر سفید جھنڈا لہرا دیا۔
سیکورٹی زرائع کا کہنا تھا کہ سفید جھنڈا لہرا کر بھارتی فوج نے شکست تسلیم کر لی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آرمی کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر دشمن کی پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاک فضائیہ نے رات گئے ہونے والے بھارتی حملے کے نتیجے میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون سمیت 6 بھارتی طیاروں کو مار گرایا ہے۔
پاک فوج نے جو 6 بھارتی طیارے مار گرائے ہیں ان میں فرانسیسی کمپنی کے تیار کردہ جدید طرز کے 3 رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاک فوج فوج نے کہ پاک
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔