اب کوئی یہاں آکر گرا تو چائے کے ساتھ سندھ کا پان بھی کھلائیں گے؛ گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سٹی 42 : گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ہم نے دکھایا تھا کہ گر کے معافی مانگ لو تو چائے پلاتے ہیں، اب کوئی یہاں آکر گرا تو چائے کے ساتھ سندھ کا پان بھی کھلائیں گے ۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے واہگہ بارڈر کا دورہ کیا ہے، کامران ٹیسوری نے فیملی کے ہمراہ واہگہ بارڈ پریڈ میں شرکت کی۔
واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز کے جوانوں کا شاندار پریڈکا مظاہرہ کیا ۔ پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد پریڈ دیکھنے کیلئے پہنچ گئی، پریڈ گراؤنڈ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گزر رہا تھا ۔ بھارتی پریڈ گراؤنڈ میں سوگ کا سماں، ایک بھی بھارتی شہری پریڈ دیکھنے نہ آیا ۔
میچ کے دوران بولر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا
کامران ٹیسوری نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایئر فورس کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، پریڈ کے دوران پاکستانی شہریوں کا جذبہ دیدنی تھا۔آج اپنے جوانوں کا جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ، ہمارے بارڈر کی حفاظت محفوظ ہاتھوں میں ہے، میں نے اپنے جوانوں کو دیکھا ہے، دشمن نے ہمارے جوانوں سےلڑنے کیلئے اپنے جوان نہیں بھیجے، دشمن نے ہماری مسجدوں کو شہید کیا، دشمن نے ہمارے بچوں کو شہید کیا، بھارت نے دعویٰ کیا کہ 9 جگہ میزائل داغے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی جیت ہوئی ہے۔
سندرفائرنگ؛ 2 افراد زخمی
انہوں نے کہا کہ میں اپنی افواج کے سپہ سلار جنرل حافظ عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کو بتا رہا ہوں ہندو قصاب مودی نے مسجدوں کو شہید کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 1965 بھول گیا ہے، ہم انکو 1965 بھولنے نہیں دیں گے۔ ہمیں آنکھیں دکھاؤ گے تو آنکھیں نکال لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دکھایا تھا کہ گر کے معافی مانگ لو تو چائے پلاتے ہیں، اب کوئی یہاں آکر گرا تو چائے کے ساتھ سندھ کا پان بھی کھلائیں گے ۔
تیل کی قیمتوں میں زبردست واپسی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کامران ٹیسوری نے انہوں نے کہا کہ تو چائے سندھ کا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔