بھارتی جارحیت علاقائی امن کیلیے سنگین خطرہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ رات کی تاریکی میں کیے جانیوالے بزدلانہ حملے دراصل بھارت کی بوکھلاہٹ اور انتہاء پسند قیادت کی ذہنیت کو آشکار کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وطن عزیز پاکستان کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔ بزدل دشمن کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہے۔ قوم متحد ہو کر مکار دشمن کا مقابلہ کرے گی۔ اپنے بیان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے بھارتی افواج کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر حملے کو کھلی جنگی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کی تاریکی میں کیے جانے والے بزدلانہ حملے دراصل بھارت کی بوکھلاہٹ اور انتہاء پسند قیادت کی ذہنیت کو آشکار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی جو گجرات کے قصائی کے نام سے جانا جاتا ہے، خطے میں امن کو داؤ پر لگا کر سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کی جنگی جنونیت نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
علامہ ڈومکی نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، مگر اپنی خودمختاری، سالمیت اور قوم کی حفاظت کے لیے ہر سطح پر بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کے دفاع کے لئے پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی اس کھلی جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور نہتے پاکستانی شہریوں پر حملوں کا نوٹس لیں اور بھارت کو لگام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سید الشہداء حسین ابن علیؑ کے ماننے والے ہیں۔ ہم شہادت کو سعادت سمجھتے ہیں اور ظالم دشمن کی جارحیت کے خلاف خاموشی کو گناہ سمجھتے ہیں۔ بھارت اگر دوبارہ کوئی مہم جوئی کرے گا تو اُسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود نے کہا کہ ڈومکی نے انہوں نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔