اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ہمیں خدشہ تھا کہ بھارت جارحیت کرے گا، بھارت نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں دہشت گردی کے کیمپ نہیں تھے۔ وہ بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے پانچ مختلف مقامات پر بلا اشتعال حملہ کیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی صحافیوں کو دو روز قبل لائن آف کنٹرول کے قریب ان تمام علاقوں کا دورہ کرایا گیا جن کے بارے میں بھارت نے جھوٹا دعوی کیا کہ وہاں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں۔ عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پہلگام واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد بھارت کے پاس موجود نہیں ہیں، یہ علاقہ لائن آف کنٹرول سے 200 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہ واقعہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی ناکامی ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔ "ہم نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اور آج بھی اپنے مغربی علاقوں اور سرحدوں پر دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں" وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت خود دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ جعفر ایکسپریس جیسے واقعات کے بعد بھی بھارت نے مذمت تک نہیں کی۔ بھارت امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں سکھوں کے قتل میں ملوث ہے۔ ہمارے پاس بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن میں کلبھوشن یادیو کا کیس سب سے نمایاں ہے جو بھارتی نیول افسر اور دہشت گردی میں ملوث پایا گیا۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کا ضامن ہے اور ہم دہشت گردوں اور دنیا کے درمیان ایک دیوار ہیں۔ پاکستان آج بھی قیمتی جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ آج بھی بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو کسی سے کمتر نہ سمجھا جائے۔ پاکستان بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج صبح طلب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سفارتی محاذ پر کئی ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور عالمی رہنماں سے رابطے کیے ہیں۔ پاکستان نے پہلگام واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی بھی پیشکش کی ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے کبھی جارحیت میں پہل نہیں کی لیکن اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نے کہا کہ کہا کہ پاکستان وفاقی وزیر بھارت نے انہوں نے میں ملوث ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار