Express News:
2026-06-03@06:09:06 GMT

صرف عوام ہی کی قربانی کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT

بجلی کی قیمت کے سرکاری اعلان کے بعد بتایا جا رہا تھا کہ اب حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم کرنے جا رہی ہے اگر ایسا ہو بھی جاتا تو یہ حکومت کا عوام پر کوئی احسان نہیں تھا نہ سرکاری خزانے پر اثر پڑنا تھا کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی و بیشی عالمی سطح پر طے ہوتی ہے مگر ہمارے ملک میں ہوتا یہ آ رہا ہے کہ عالمی طور پر قیمت بڑھے تو ملک میں فوری قیمت بڑھا دی جاتی ہے اور اگر کم ہو تو معمولی ریلیف تو حکومت دیتی ہی نہیں اگر زیادہ کمی ہو جائے تو حکومت قیمت تبدیلی کے وقت کا انتظار کرتی ہے اور پورا ریلیف کبھی عوام کو نہیں دیتی کیونکہ پٹرولیم مصنوعات بھی حکومتی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہی حکومت ان اپنوں کو مزید نوازتی ہے جو پہلے سے ہی لاکھوں روپے تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں اور ان کی طرف سے تنخواہیں اور مراعات نہ بڑھانے کی کوئی شکایت بھی نہیں آتی مگر حکومت عوام سے زیادہ ان کا زیادہ خیال رکھتی ہے اور انھیں مزید نواز کر قومی خزانے پر ماہانہ کروڑوں روپے کا بوجھ بڑھا دیتی ہے جو عوام بڑھتے ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتے آ رہے ہیں۔

اس بار بھی ایسا ہی ہوا عوام کو پٹرول سستا کرنے کا خواب دکھایا گیا مگر راتوں رات پٹرولیم لیوی 72 روپے سے 80 روپے کر کے عوام کو عالمی ریلیف سے محروم کر دیا گیا۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر یقین نہیں رکھتی اور اسی لیے عوام سے وعدے ضرور کیے گئے مگر ڈھائی سالوں میں معمولی ریلیف بھی نہیں دیا گیا۔

بجلی کی قیمت اسی حکومت نے بڑھائی تھی اور صرف سات روپے تک کم کر کے اپنی فیاضی کا ڈنکا ضرور پیٹ لیا اور عالمی سطح پر ملنے والا پٹرولیم ریلیف بھی بلوچستان کے لیے منتقل کر دیا جس سے عوام پھر محروم رہ گئے اور انھوں نے اسے اپنی طرف سے بلوچستان کے لیے قربانی سمجھ لیا اور ایسی قربانی عوام سے ہی لی جاتی رہی ہے ۔ حکومت نے عوام سے قربانی نہیں قربانیاں لینے کا ریکارڈ ضرور قائم کر دیا ہے کیونکہ اس کے نزدیک صرف عوام ہی کو قربانی دینی چاہیے باقی کی قربانی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں اور نہ عوامی قربانی دینا اعلیٰ اشرافیہ اور حکومت کا کام ہے اور ہر بار صرف عوام ہی قربانی دیتے اور باقی کی قربانی بنتی ہی نہیں کیونکہ وہ صرف مراعات حاصل کرنے اور عوام قربانی دینے کے اہل ہیں۔

ویسے بھی بلوچستان کا احساس حکمرانوں کو نہیں صرف پاکستانیوں کو ہے جو اپنے ملک کے اس صوبے بلوچستان کے حالات پر پریشان ہیں کہ جہاں دہشت گرد تنظیموں نے بھارت کی مالی سرپرستی میں دہشت گردی کی انتہا کر رکھی ہے جہاں سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے غریبوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے مگر پنجاب سمیت ملک بھر میں ان دہشت گردوں کی بربریت کے خلاف احتجاج ہوا نہ کسی کو نقصان پہنچایا گیا حالانکہ بلوچوں کی اکثریت دہشت گردوں کی حامی نہیں ہے اور وہاں کے طلبا کی بڑی تعداد اپنے صوبے سے باہر جا کر وہاں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے جو ان کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور وہی نہیں بلکہ بلوچ سردار بھی اپنے بچوں کو اپنے صوبے سے باہر تعلیم دلا رہے ہیں کیونکہ یہ سب خود کو اپنے صوبے سے باہر محفوظ سمجھتے ہیں اور آزادی سے رہ رہے ہیں۔

دہشت گردوں کی خفیہ اور کھلی حمایت کرنے والوں کی ان مذموم سرگرمیوں پر محب وطن حلقوں میں ضرور تشویش ہے ،بلوچستان میں سردار غریب عوام کے نام پر حکومت سے کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں مگر دہشت گردی کے واقعات پر خاموش رہتے ہیں اور علیحدگی پسند چند ہزار دہشت گردوں کے خلاف کچھ نہیں بولتے اور دہشت گردی روکنے کے لیے نہ کوئی قومی کردار ادا کرتے ہیں اور نہ دہشت گردوں کے بے بنیاد پروپیگنڈے سے متاثر نوجوانوں کو سمجھاتے ہیں نہ حقائق بتاتے ہیں کہ پس ماندگی صرف بلوچستان میں نہیں ملک بھر میں ہے کہیں کم کہیں زیادہ، مگر بلوچستان میں اس لیے زیادہ ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے کام کرنے والوں کو وہاں کام کرنے دیا جاتا ہے نہ وہ وہاں محفوظ ہیں۔

بلوچستان کی ترقی اور مسائل میں اضافہ انھی رکاوٹوں کے پیدا کیے جانے کی وجہ سے ہے جو بلوچ عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی ترقی نہیں چاہتا اور ان دونوں ہی کو پس ماندہ رکھ کر خود مال کما رہا ہے کیونکہ اسی میں ان کا مالی و سیاسی فائدہ ہے۔ بلوچ عوام کو صوبے میں اکثر جگہوں پر غربت و پسماندگی کا بتا کر گمراہ تو کیا جاتا ہے مگر حکومت، مفاد پرست سرداروں اور سیاستدانوں کو حقائق بتانے کی توفیق نہیں ہوتی اور انھیں مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ ضرور ہے مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے افراد دہشت گردوں کے فریب میں آ کر اپنے گھروں سے غائب ہو کر دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں اور یہی لوگ پھر احتجاج کرتے ہیں کہ صوبے سے لوگ غائب کیے جا رہے ہیں جس سے حکومت بدنام کی جاتی ہے مگر حقائق منظر عام پر ضرور آ جاتے ہیں۔

بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ موجود ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ مسئلہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی زیر سماعت ہے جہاں کہا جا چکا ہے کہ ایسا کرنا غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،دوسری جانب تفتیش میں مہینوں نہیں سالوں گزر جاتے ہیں جس سے بدنامی ہو رہی ہے اور ملک دشمنوں کو احتجاج کا موقعہ مل جاتا ہے۔

جعفر ایکسپریس کے واقعے پر پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعلیٰ نے اس دہشت گردی کی مذمت کرنے کی بجائے اس موقع سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جو ناکام رہی مگر شرپسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور حکومتی مشکلات بڑھیں۔ حکومت نے اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے کی بجائے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی رعایت سے فائدہ اٹھایا اور اس رقم سے ایک خونی سڑک کی تعمیر پر یہ رقم خرچ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے بلوچ عوام اور صرف صوبے کو فائدہ پہنچایا جائے تو عوام کو بھی اعتراض نہیں ہوگا اور وہی قربانی بھی دے دیں گے مگر عوام کی یہ رقم مفاد پرست سرداروں، سیاستدانوں اور بیورو کریسی کے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور رقم کا منصفانہ اور حقیقی استعمال ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات بلوچستان میں ہیں اور عوام سے کی قیمت رہے ہیں عوام کو اور ان کے لیے ہے مگر رہا ہے ہے اور رہی ہے

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان