نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، الیکشن کمیشن کیخلاف عدالت جاؤں گی، سینیٹر مشال یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی نومنتخب خاتون سینیٹر کا کہنا تھا کہ 7 دن گزر گئے تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، ابھی تک نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سے حلف برداری کی تقریب منعقد نہیں ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر مشال یوسفزئی نے الیکشن کمیشن کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ 31 جولائی کو ثانیہ نشتر کی خالی نشست پر سینٹ کا الیکشن ہوا، کئی دن گزر جانے کے باوجود تاحال مشال یوسفزئی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سے تاحال حلف برداری بھی نہ ہوسکی، خیبرپختونخوا سے باقی منتخب سینیٹرز کی حلف برداری کچھ ہی دن کے اندر ہوگئی تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشال یوسفزئی نے کہا کہ 7 دن گزر گئے تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، ابھی تک نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سے حلف برداری کی تقریب منعقد نہیں ہوئی ہے۔ مشال یوسفزئی نے کہا کہ امید ہے آنے والے کچھ دنوں میں نوٹیفکیشن جاری ہو جائے، علم نہیں کس وجہ سے الیکشن کمیشن نے میری بطور سینٹیر نامزدگی کا نوٹیفکیشن نہیں کیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا سہیل خان نے کہا کہ مشال یوسفزئی کی تمام ضروری دستاویزات اسلام آباد الیکشن کمیشن کو بھیج دی ہیں، ہونا چاہیے تھا کہ ان کا نوٹیفکیشن جاری ہو جاتا، توقع ہے آج یا کل نوٹیفکیشن ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نوٹیفکیشن جاری نہ جاری نہیں ہوا مشال یوسفزئی الیکشن کمیشن حلف برداری
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔