بجلی ایک روپیہ 88پیسے فی یونٹ سستی، نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈسکوز صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 88 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی، ڈسکوز صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی اپریل تا جون سہ ماہی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی۔قیمتوں میں کمی کی اطلاق اگست تا اکتوبر 2025 کے تین ماہ کیلئے ہوگا، قیمتوں میں کمی سے صارفین کو 55 ارب 87 کروڑ 40 لاکھ روپے تک کا ریلیف ملے گا۔
فیصلے کے مطابق اس کمی کا اطلاق ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے تمام صارفین پر ہوگا تاہم لائف لائن، پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیز نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی کرنے کی درخواست دی تھی جس پر سماعت 4 اگست کو ہوئی تھی، نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا آذربائیجان کا دورہ، عسکری قیادت سے ملاقاتیں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا آذربائیجان کا دورہ، عسکری قیادت سے ملاقاتیں جنوبی وزیرستان،وانا بازار میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ، 3جاں بحق، 14زخمی عظمی بخاری نے پی ٹی آئی کی 14اگست کی احتجاج کی کال کو افسوسناک قرار دیدیا پارلیمنٹ کا حصہ رہیں گے، ضمنی الیکشن سے متعلق پہلے عمران خان سے بات کریں گے،بیرسٹر گوہر راولپنڈی واقعہ، جرگے کے سربراہ عصمت اللہ کا خاتون کو خود قتل کرنے کا انکشاف عوام ہو جائیں ہوشیار،سی ڈی اے نے کر دیا خبردار، 99ہاوسنگ سوسائیٹرز کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا،مالکان کے نام ای سی ایل میں.

.. TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نیپرا نے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟