حکومت کا 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے 3 مرحلوں میں 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا، وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ایک سال میں 10 اداروں کی نجکاری کی جائے گی، دوسرے مرحلے میں ایک سے تین سال میں 13 اداروں کی نجکاری کی جائے گی، آخری مرحلے میں ایک ادارے کی نجکاری کے لیے تین سے پانچ سال کا عرصہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل، اور زرعی ترقیاتی بینک جیسے اہم اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں آئیسکو سمیت تین ڈسکوز کی بھی نجکاری کی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور چار ڈسکوز کی نجکاری کی جائے گی۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں لیسکو سمیت 6 ڈسکوز کی نجکاری کی جائے گی، آخری مرحلے میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کی جائے گی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی نجکاری کی جائے گی اداروں کی نجکاری مرحلے میں
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔