Express News:
2026-06-03@05:45:46 GMT

قدرت انسانوں سے انتقام لے رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

موجودہ صدی میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ قدرت کس طرح انسانوں سے انتقام لے رہی ہے اور ایسا کیوں کر رہی ہے؟ اس کا جواب بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

موجودہ دور میں جتنے بھی مذاہب اس زمین پر موجود ہیں سب کا ماننا ہے کہ مرنے کے بعد اُنہوں نے آسمان پر جانا ہے اور وہاں اُنہیں جنت میں بھیج دیا جائے گا، کیونکہ ہر مذہب نجات کی بات کرتا ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو نجات کا دعویدار قرار دیتا ہے۔ گو کہ وہ اُنہیں اپنے اعمال بہتر بنانے کی بات بھی کرتا ہے۔ ہر قسم کی برائیوں سے بھی باز رہنے کی بات کرتا ہے۔ دُنیا بھر کے انسانوں سے پیار بانٹنے اور معاف کرنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ اپنے پڑوسی کو برابر کے حقوق دینے کی بات بھی کرتا ہے۔ اس دنیا کوخوبصورت اور خوشحال بنانے کی بات بھی کرتا ہے۔ قدرت کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کی بات بھی کرتا ہے اور قدرت کو خوبصورت بنانے کی بات بھی کرتا ہے۔

لیکن دنیا بھر کے تمام مذاہب کے پیروکاروں نے شاید صرف ایک ہی بات سنی ہے کہ انہیں ان کا مذہب جنت کا ٹکٹ دے دے گا، اس لیے انہیں باقی چیزوں پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنے اعمال کو بہتر بنائیں۔ انہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اس دنیا کو جہاں وہ خود رہتے ہیں پرامن اور خوشحال بنائیں۔ انہیں کوئی ضرورت نہیں کہ قدرت کی خوبصورتی اور دلکشی کو برقرار رکھنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

یہی وجہ ہے کہ جب انسان نے خدا کی بنائی ہوئی قدرت اور فطرت کو اُس کی اصل شکل میں رہنے کے بجائے اُسے خراب کرنے کی کوشش کی تو پھر قدرت نے بھی انسانوں سے انتقام لینے کا تہیہ کرلیا۔ جس کا ثبوت ہمیں سونامی کی شکل میں، زلزلوں کی شکل میں، ہر سال طوفانی بارشوں اور سیلابوں کی شکل میں، کبھی جنگلوں میں نہ بجھنے والی آگ کی صورت میں، کبھی موسموں کی شدت کی شکل میں ہمیں نظر آرہا ہے اور انسان ہر روز اس کا بھیانک تجربہ کررہا ہے لیکن اس کے باوجود انسان اپنی روش سے باز نہیں آرہا۔

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے طاقتور انسانوں نے کمزور کو مغلوب بنانے کےلیے انسانیت کی حد درجہ تذلیل کی ہے اور ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ دو عالمی جنگ میں کروڑوں لوگ بے دردی سے قتل کردیے گئے۔ قدرت کی حسین وادیوں، سمندروں، دریاؤں، ندی نالوں کو خون سے نہلا دیا گیا۔ منوں ٹنوں کے حساب سے گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ محض کچھ دیر کےلیے یہ سلسلہ رکا تو سہی۔ کچھ اداروں کا وجود بھی عمل میں لایا گیا کہ انسانوں سے عالمی جنگوں جیسی غلطی تیسری بار نہ دہرائی جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان اپنے آپ کو محفوظ بنانے کےلیے اور دوسروں سے طاقتور بننے کےلیے ڈھیروں ڈھیر اسلحہ بھی بناتا رہا۔ شاید اُس کا خیال تھا کہ وہ اس اسلحے کے ڈھیر میں خود کو چھپا کو محفوظ ہو جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ نہ صرف اسلحہ بنانے والا خود اور اُس کے ارد گرد کے پڑوسی بھی اُس سے غیر محفوظ ہوگئے۔

حیرت کی بات ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے مختلف اعلامیے پڑوسیوں سے اچھے سلوک کی بات کرتے ہیں اور مذہب بھی اپنے پیروکاروں کو یہی ترغیب دیتا ہے لیکن زمین پر بسنے والے انسانوں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے، کیونکہ وہ طاقت کے نشے میں بدمست سب سے پہلے اپنے پڑوسی ملک کو ہڑپ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

آپ دنیا میں بیشتر جنگیں دیکھیں وہ آپ کو پڑوسی ملکوں کے درمیان ہی نظر آئیں گی، چاہے وہ اسرائیل فلسطین کی جنگ ہو، اسرائیل ایران کی جنگ ہو، پاکستان انڈیا کی جنگ ہو، آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ ہو، عراق اور ایران کی جنگ ہو، جرمنی پولینڈ کی جنگ ہو، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی جنگ ہو اور انڈیا اور چین کی جنگ ہو۔ یہ تمام جنگیں پڑوسی ملکوں کے درمیان ہی لڑی گئیں اور لڑی جارہی ہیں۔ ماضی میں جب کبھی کوئی بے گناہ قتل ہوتا تھا تو آسمان روتا تھا اور سرخ ہوجاتا تھا، جسے دیکھ کر ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ دنیا میں کوئی بے گناہ قتل ہوا ہے۔ لیکن شاید اب انسانوں کی سنگدلی دیکھتے ہوئے آسمان نے بھی رونا چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے اب اُس طرح کبھی آسمان سرخ ہوا ہی نہیں۔

حال ہی میں آنے والی خبر جسے پڑھ کر دل بہت دکھی ہوا کہ غذائی قلت کے باعث غزہ میں سیکڑوں انسان جن میں بزرگ، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں وہ موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے ایک اور خبر نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا کہ انڈیا میں میانمار کے روہنگیائی قوم کے پناہ گزینوں کو سمندر غرق کردیا گیا۔ انسان اتنا بے رحم اور سفاک کیسے ہوسکتا ہے؟ انسانوں کے اس رویے کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ فرعون، نمرود ، ہلاکو خان، چنگیز خان ، ہٹلر، مسولینی کی روح موجود دور کے سفاک رہنماؤں کی صورت میں ابھی بھی موجود ہے۔

آپ ملاحظہ کیجیے کہ ان جنگوں سے انسان تو لقمہ اجل بنے ہی ہیں قدرت اور فطرت کو بھی خاصا نقصان پہنچا ہے۔ کھیت کھلیان، چراگاہیں، جنگل، سمندر، دریا، آب و ہوا، حتیٰ کہ پہاڑوں تک اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر میں ہونے والی تغیراتی تبدیلیاں، موسموں کی شدت اور بارشوں کے لامتناہی سلسلے نے انسانوں کےلیے زمین پر رہنا مشکل کردیا ہے۔ حال ہی میں امریکا کی ریاست ٹیکساس میں آنے والے سیلاب نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ اگر امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے کے سسٹم کے باوجود وہاں انسان متاثر ہوسکتے ہیں تو ہمارے جیسے ملک میں جہاں سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے سسٹم کو چرا لیا جائے (کچھ ماہ قبل نالہ لئی راولپنڈی ممیں یہ واقع ہوا تھا) تو وہاں قدرت کیا غضب ڈھا سکتی ہے؟ اس کا جواب ہمیں مل چکا ہے اور شاید ابھی تک مل رہا ہے۔

ہمارے ملک میں بارشوں نے رواں برس قیامت ڈھائی ہوئی ہے۔ ڈھائی سو کے قریب انسان تاحال لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ان بے سرو سامان خاندانوں کو آسرا فراہم کرسکے۔ انفرااسٹرکچر بری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ عوام خوفزدہ ہیں اور بارش کو رحمت کے بجائے زحمت قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ برسوں سے دنیا بھر کی حکومتیں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی تباہی کے پیش نظر اپنے ملکوں میں اس حوالے سے کام کر رہی ہیں، جس میں سب سے اہم جنگلات کا اُگانا ہے، کیونکہ سیلابوں کو روکنے کےلیے جنگلات بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس حوالے سے کچھ منصوبہ بندی تو کی گئی ہے لیکن جس تیزی کے ساتھ پوش سوسائٹیوں کے نام پر جنگلات اور دیہی سرسبز زمینوں کو سوسائٹیوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اُس کے نتیجے میں ملک بھر کے شہر موسمیاتی تغیراتی تبدیلوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

سادہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ملک بھر میں ایمرجنسی کی صورت میں بھی نو دولتیے سیر و سیاحت کے شغل میں مصروف ہوکر اُن علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جنہیں حکومت نے ڈینجر زون قرار دے رکھا ہے۔ اب جو لوگ وہاں مقیم ہیں اور شاید اُن کےلیے ممکن نہیں کہ وہ وہاں سے انخلا کرسکیں لیکن میدانی علاقوں کے لوگ جانے کیوں ایڈونچر کے چکر میں اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔

اس ضمن میں حکومت سے گزارش ہے کہ اُن علاقوں میں جانے والے لوگوں پر سختی کی جائے اور مستقبل میں مون سون میں پہلے ہی سے پابندی عائد کر دی جائے کہ اُن علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو وہاں مقامی لوگ ہیں اور اُن کے انخلا ممکن نہیں تو اُن کو ہر ممکن سہولت دی جائے کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔

ملک میں شجر کاری کےلیے کسی ایک محکمے کو ہی ذمے داری نہ دی جائے بلکہ شہروں، دیہاتوں، قصبوں میں ہر شخص پر لازم کیا جائے کہ وہ نہ صرف درخت لگائے بلکہ اُس کے پروان چڑھانے تک اُس کا ذمے دار ہو۔ ایسا سختی سے نہیں ہوگا بلکہ ہر شخص کو اپنا فرض سمجھنا ہوگا کہ وہ انسانیت کو بچانے کےلیے اپنا کردار ادا کرے۔ اس سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا کہ ہم نے کون سا اُس درخت کی چھاؤں میں بیٹھنا ہے بلکہ یہ خیال کرنا چاہیے کہ جن درختوں کی چھاؤں سے ہم لطف اندوز ہو رہے ہیں وہ بھی ہمارے جیسے کسی انسان نے لگائے تھے۔ ندی، نالوں، دریاؤں اور سمندروں کو صاف رکھنے کےلیے ہمیں سنجید ہ پالیسی بنانی ہوگی۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ دنیا اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے اور کس طرح قدرت اور فطرت کو اپنی اصل شکل میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دنیا بھر کے انسانوں کو جنگی جنون کے بجائے انسانیت کو بچانے کےلیے تگ و دو کرنی چاہیے کیونکہ خیال کیا جائے کہ ہمارے پڑوسی کے گھر کو آگ لگی ہوئی ہے تو کہیں وہ آگ ہمارے گھر تک نہ پہنچ جائے۔ اسلحہ بنانے اور بیچنے والوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ انہیں جنت کا ٹکٹ حاصل کرنے کےلیے اپنے جیسے انسانوں کو قتل کرکے جنت نہیں ملنی بلکہ انسانیت کو بچا کر ہی شاید وہ اس دنیا کو جنت بناسکیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قدرت، فطرت کے مظاہر سے لطف اندوز ہوں اور انہیں نقصان پہنچانے کے بجائے اس کو خوبصورت اور پرامن بنانے کےلیے ہر ممکن جدوجہد کریں تو شاید ہوسکتا ہے کہ قدرت کو بھی انسانوں پر رحم آجائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی بات بھی کرتا ہے کوئی ضرورت نہیں کی شکل میں کی جنگ ہو کے بجائے دنیا بھر ہیں اور جائے کہ ملک میں نے والے رہے ہیں نے والی قدرت کی دنیا کو کرنے کی کہ وہ ا رہی ہے ہے اور کر رہی بھر کے ہیں کہ شاید ا اپنے ا

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان