پنجاب میں فیڈ ملز کو گندم کے استعمال سے مزید 30 روز کے لیے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کرتے ہوئے فیڈ ملز کو گندم کے استعمال سے مزید 30 روز کے لیے روک دیا ہے۔
یہ فیصلہ انسانی استعمال کے لیے گندم، آٹے اور روٹی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کا معاہدہ، گندم 3500 روپے فی من خریدی جائے گی
سرکاری اعلامیے کے مطابق گندم صرف فلور ملز میں آٹا بنانے کے لیے استعمال کی جا سکے گی، جبکہ فیڈ ملز کو گندم مرغیوں کے دانے میں شامل کرنے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب
لاہور 5 نومبر:
پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
پنجاب بھر کی فیلڈ ملز میں گندم کو مرغیوں کے دانے میں استعمال کرنے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع
فیصلہ انسانی استعمال کیلئے گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے کیا گیا
حکومت پنجاب نے صوبہ… pic.
— Home Department Punjab (@homedptpunjab) November 5, 2025
سیکریٹری داخلہ پنجاب نے یہ پابندی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت عائد کی ہے، جو یکم دسمبر تک نافذالعمل رہے گی۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ پنجاب میں فیڈ ملز کے پاس ایک لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کا ذخیرہ موجود ہے اور خدشہ تھا کہ یہ گندم مرغیوں کے دانے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں گندم کو فیڈ ملز میں استعمال کرنے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
سیکریٹری پرائس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد گندم کی ممکنہ قلت سے بچاؤ اور انسانی خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
نوٹیفیکیشن میں عوامی آگہی کے لیے اس فیصلے کی تشہیر سرکاری گزٹ، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پولٹری دفعہ 144 روٹی سیکریٹری پرائس کنٹرول سیکریٹری داخلہ فیڈ ملز گندم مرغیوں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولٹری روٹی سیکریٹری پرائس کنٹرول سیکریٹری داخلہ فیڈ ملز مرغیوں فیڈ ملز کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔