حکومت نے بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز بند کرنیکا فیصلہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ تاہم سروس کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ہدایت پر سکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا فیصلہ حساس صورتحال کے پیش نظر کیا گیا، جو کہ ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔ انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے باعث شہریوں کو رابطے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر طلبہ، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد، سرکاری دفاتر اور بنکنگ نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بلوچستان کے جن اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہیں، ان میں کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت، ہرنائی، ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، دکی، سنجاوی، قلعہ سیف اللہ، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، جعفر آباد، صحبت پور، جھل مگسی، خضدار، وڈھ، قلات، منگوچر، مستونگ، بیلہ، اوتھل، دشت، کچلاک، واشک، نوشکی، چاغی، پنجگور، تربت، گوادر، آواران، لسبیلہ اور حب شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تاہم سروس کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے انٹرنیٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروس سروس کی
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔