کراچی:

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجوں میں داخلے کی تاریخ کا اعلان کردیا اور داخلہ ٹیسٹ کی فیس میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد رواں سال 2025 میں ٹیسٹ فیس 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

پی ایم ڈی سی نے ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ ایم ڈی کیٹ 2025 کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے، داخلہ ٹیسٹ اتوار 5 اکتوبر 2025 کو پاکستان سمیت سعودی عرب میں بھی ایک ہی وقت پر منعقد ہوگا۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق امتحان پانچ مختلف جامعات کے تحت لیا جائے گا، جن میں پنجاب کے امیدواروں کے لیے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سندھ کے امیدواروں کے لیے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبرپختونخوا کے امیدواروں کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور، بلوچستان کے لیے بولان میڈیکل یونیورسٹی کوئٹہ اور وفاقی دارالحکومت، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں (ریاض، سعودی عرب) کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد شامل ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کی آن لائن رجسٹریشن 8 اگست 2025 سے شروع ہوگی جو 25 اگست تک جاری رہے گی، لیٹ فیس کے ساتھ رجسٹریشن کی آخری تاریخ یکم ستمبر مقرر کی گئی ہے۔

پاکستان میں امتحانی مراکز کے لیے رجسٹریشن فیس 9 ہزار روپے جبکہ لیٹ فیس کے ساتھ 13 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، ریاض سعودی عرب جیسے بین الاقوامی سینٹرز کے لیے رجسٹریشن فیس 45 ہزار روپے اور لیٹ فیس کے ساتھ 55 ہزار روپے ہوگی جبکہ تمام فیسیں ناقابل واپسی اور ناقابل منتقلی ہوں گی۔

میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ٹیسٹ ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کیا جائے گا، جن میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ، سکھر، حیدرآباد، ملتان، فیصل آباد، سوات، ایبٹ آباد، گلگت، ریاض سمیت دیگر شہر شامل ہیں۔

امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف اپنے ڈومیسائل کے مطابق شہر کا انتخاب کریں کیونکہ ایک بار منتخب کیا گیا امتحانی مرکز بعد میں تبدیل نہیں کیا جا سکے گا۔

ایم ڈی کیٹ کا امتحان انگریزی زبان میں ہوگا اور یہ پرچہ ملٹی پل چوائس سوالات پر مشتمل ہوگا، مجموعی طور پر 180 سوالات ہوں گے جن میں کسی قسم کی منفی مارکنگ نہیں کی جائے گی۔

سوالات حیاتیات، کیمیا، طبیعیات، انگریزی اور منطقی سوچ جیسے مضامین سے ہوں گے، پرچے میں 15 فیصد آسان، 70 فیصد درمیانے اور 15 فیصد مشکل سطح کے سوالات شامل ہوں گے۔

پی ایم ڈی سی نے تمام امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بروقت رجسٹریشن مکمل کریں اور امتحان کی تیاری کا عمل فوری طور پر شروع کریں تاکہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

فیس میں اضافے پر طلبہ اور والدین کے شدید تحفظات

دریں اثنا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے ایم ڈی کیٹ 2025 کے لیے فیس میں نمایاں اضافے پر طلبہ اور والدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب علی نے بھی فیس میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ایم ڈی کیٹ کی رجسٹریشن فیس 8 ہزار روپے تھی، جو اس سال بڑھا کر 9 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2023 میں یہی فیس 5 ہزار روپے تھی لیکن اب تک فیس میں تقریباً 80 فیصد فیس اضافہ کیا گیا ہے جبکہ لیٹ فیس کے ساتھ یہ رقم 13 ہزار تک جا پہنچے گی۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ اس اضافے سے غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں امیدوار شدید متاثر ہوں گے، اتنی بھاری فیس لینے کے باوجود امتحانی مراکز میں والدین کے بیٹھنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، امتحانی مراکز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔

 ڈاکٹر محبوب کے مطابق گزشتہ سال ایم ڈی کیٹ میں تقریباً 10 فیصد طلبہ کو شکایات کا سامنا کرنا پڑا تھا، بعض سوالات نصاب سے باہر تھے اور بہت سے امیدواروں کی جوابی کلید (کیز) ویب سائٹ پر جاری کردہ نتائج سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال ایسے مسائل کا سامنا نہیں ہوگا اور طلبہ کے اعتراضات کا مکمل ازالہ کیا جائے گا۔

سلیبس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس سال ایم ڈی کیٹ ہر صوبے کے اپنے نصاب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، یعنی سندھ کے طلبہ کے لیے سندھ اور دیگر صوبوں کے امیدواروں کے لیے ان کے متعلقہ بورڈ کا سلیبس رکھا گیا ہے، جو ایک مثبت قدم ہے اور اس سے طلبہ کی تیاری بہتر ہو سکے گی۔

چیئرمین وائی ڈی اے نے سب سے اہم سوال یہ اٹھایا کہ جب پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں میڈیکل یونیورسٹیاں ایم ڈی کیٹ کا انعقاد کر رہی ہیں، تو سندھ میں یہ ذمہ داری ایک غیر میڈیکل ادارے، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کو کیوں سونپی گئی ہے؟ کیا یہ سندھ میں شفافیت اور میرٹ پر سوالیہ نشان نہیں؟

ڈاکٹر محبوب نے پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیا کہ امتحانی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ہر سال طلبہ کو پیش آنے والی پریشانیوں کا خاتمہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال متنازع نتائج کے باعث سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری سکھر آئی بی اے کو سونپی گئی تھی، ادارے کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق ایم بی بی ایس میں کامیابی کا تناسب 42.

59 فیصد جبکہ بی ڈی ایس میں 49.90 فیصد رہا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے امیدواروں کے لیے میڈیکل یونیورسٹی ڈینٹل کالجوں میں پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ ہزار روپے کی گئی ہے کے مطابق انہوں نے فیس میں ہوں گے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس