UrduPoint:
2026-07-24@05:49:37 GMT

کانگو: خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی تقسیم

اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT

کانگو: خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی تقسیم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2025ء) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے ایک قافلے نے جمہوریہ کانگو میں خانہ جنگی سے متاثرہ علاقے میں ہزاروں لوگوں کے لیے خوراک پہنچائی ہے جہاں باغیوں اور سرکاری فوج کی لڑائی میں سیکڑوں لوگ ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔

'ڈبلیو ایف پی' کی جانب سے صوبہ شمالی کیوو میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں پہنچائی جانے والی امداد میں دالیں، پھلیاں، کھانے کا تیل اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

یہ سامان ہمسایہ ملک یوگنڈا سے لایا گیا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ وہ بوٹیمبو شہر کے جنوب میں واقع علاقے لوبیرو میں ایک لاکھ 40 ہزار لوگوں کے لیے مزید ہزاروں ٹن خوراک مہیا کرے گا۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ کانگو کے اس علاقے میں 2 مئی سے جاری لڑائی کے نتیجے میں تقریباً 30 ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

(جاری ہے)

جمہوریہ کانگو کی حکومت اور ملک کے مشرقی علاقوں میں ہمسایہ ملک روانڈا کے حمایت یافتہ ایم23 باغیوں کے مابین قطر میں امن مذاکرات بھی جاری ہیں۔ قبل ازیں، گزشتہ ماہ فریقین میں ہونے والی بات چیت میں قیام امن کے لیے کام کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔ ایم23 باغی گروہ معدنی وسائل سے مال مال مشرقی صوبوں میں سالہا سال سے کانگو کی فوج کے خلاف لڑ رہا ہے۔

2021 میں حکومت کے ساتھ اس کے امن مذاکرات کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلا تھا۔2 کروڑ لوگوں کو امداد کی ضرورت

رواں سال مشرقی صوبوں شمالی اور جنوبی کیوو میں فریقین کے مابین لڑائی میں شدت آئی تھی اور باغیوں نے پہلے شمالی کیوو کے دارالحکومت گوما اور بعدازاں جنوبی کیوو کے مرکزی شہر بوکاؤ پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس لڑائی کے نتیجے میں تقریباً سات ہزار شہریوں کی ہلاکت ہوئی اور بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہو گئے جبکہ تنازع کے ہمسایہ ممالک تک پھیلنے کے خدشات نے بھی سر اٹھایا۔

جمہوریہ کانگو میں تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں اور شراکت دار لوگوں کو مدد پہنچانے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں جبکہ مسلح گروہوں کی جانب سے امدادی گوداموں کو لوٹنے کے واقعات بھی تواتر سے پیش آتے رہے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر خوراک اور ادویات کا نقصان ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری