نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھارتی حملہ، واپڈا چیئرمین کا دورہ، نقصانات کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھارتی حملہ، واپڈا چیئرمین کا دورہ، نقصانات کا جائزہ لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) بھارت کی جانب سے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کی گئی شدید گولہ باری کے بعد واپڈا چیئرمین انجینئر لیفٹیننٹ جنرل (ر)سجاد غنی نے نوسیری میں واقع ڈیم سائٹ کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پراجیکٹ کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور ملازمین کی حوصلہ افزائی کی۔
پروجیکٹ حکام کی جانب سے چیئرمین واپڈا کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارتی گولہ باری مسلسل چھ گھنٹوں تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں ان ٹیک گیٹس کے ہائیڈرالک یونٹ 1 کو نقصان پہنچا۔ مزید یہ کہ ڈی سینڈرز 1 اور 3 کے ری انفورسمنٹ اسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بریفنگ کے مطابق بھارتی حملے میں پراجیکٹ کے ملازمین کے رہائشی کیمپ، ایمبولینس اور دیگر میڈیکل سہولیات کو بھی نشانہ بنایا گیا، چیئرمین واپڈا نے کہا کہ جنیواکنونشن سمیت عالمی قوانین مکمل جنگ کیدوران بھی واٹراسٹرکچرزپرحملہ کرنیکی اجازت نہیں دیتے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا کی پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کو ایل او سی کے قریبی علاقوں میں جانے سے گریز کی ہدایت امریکا کی پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کو ایل او سی کے قریبی علاقوں میں جانے سے گریز کی ہدایت پاکستانی بندرگاہوں پر ہائی الرٹ، کشتیوں کے سمندر میں جانے پر پابندی عائد سپریم کورٹ کی بھارتی جارحیت کی شدید مذمت، معصوم شہدا کو خراج عقیدت بھارت اپنے شہریوں اور سکھوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کیخلاف محاذ بنانا چاہتا ہے، اسحاق ڈار وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، بھارتی جارحیت پر بھرپور جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ آئی ایم ایف نے بھارت کا مطالبہ مسترد کردیا، پاکستان کی غیرمشروط حمایت کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔